Showing posts with label Bashir Badar. Show all posts
Showing posts with label Bashir Badar. Show all posts

2016-04-11

Hamara dil sawere ka sunehra jam ho jaye

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہوجائے

ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہوجائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہوجائے
کبھی تو آسماں سے چاند اُترے جام ہوجائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہوجائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہوگیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہوجائے
سمندر کے سفر میں اس طرح آواز دے ہم کو
ہوائیں  تیز ہوں اور کشتیوں میں شام ہوجائے
مجھے معلوم ہے اس کا ٹھکانہ پھر کہاں ہوگا
پرندہ آسماں چھونے میں جب ناکام ہوجائے
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی  کی شام ہوجائے
بشیرؔبدر

Tum abhi shehr mein kya naye aaye ho

تم ابھی شہر میں کیا نئے آئے ہو

تم ابھی شہر میں کیا نئے آئے ہو
رک گئے راہ میں حادثہ دیکھ کر
تم جنہیں پھول سمجھے ہو آنکھیں نہ ہوں
پاؤں رکھنا زمیں پر ذرا دیکھ کر
پھر دیئے رکھ گئیں تیری پرچھائیاں
آج دروازہ دل کا کھلا دیکھ  کر
اس کی آنکھوں کا ساون برسنے لگا
بادلوں میں پرندہ گھرا دیکھ کر
شام گہری ہوئی اور گھر دور ہے
پھول سوجائیں گے راستہ دیکھ کر
پھول سی انگلیاں کنگھیاں بن گئیں
الجھے بالوں میں ماتھا ڈھکا دیکھ کر
                بشیرؔبدر

Fun agar rooh o dil ki reyazat na ho

فن اگر روح و دل کی ریاضت نہ ہو

فن اگر روح و دل کی ریاضت نہ ہو
ایسی مسجد ہے جس میں عبادت نہ ہو
تیری آنکھوں میں ایسا سنور جاؤں میں
عمر بھر آئینوں کی ضرورت نہ  ہو
کس کو نیلام کرتے ہو بازار میں
یہ کسی گھر کے مندر کی مورت نہ ہو
دلنوازی کے فن جاننا   چاہیئے
حسن چاہے بہت خوب صورت نہ ہو
دن تو   نکلا خریدا   ہوا   آدمی
اے خدا رات بھی سب کی عورت نہ ہو
چھپروں پر دیئے رکھ گئی ہے ہوا
تاکہ پھر روشنی کی شکایت نہ ہو
                بشیرؔبدر

Ghar se nikle agar hum behek jayen ge

گھر سے نکلے اگر ہم بہک جائیں گے

گھر سے نکلے اگر ہم بہک جائیں گے
وہ گلابی کٹورے چھلک جائیں گے
ہم نے الفاظ کو آئینہ کردیا
چھُپنے والے غزل میں چمک جائیں گے
دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم
تم بھی تھک جاؤگے ہم بھی تھک جائیں گے
رفتہ رفتہ ہر اک زخم بھر جائے گا
سب نشانات پھولوں سے ڈھک جائیں گے
نام پانی پہ لکھنے سے کیا فائدہ
لکھتے لکھتے ترے ہاتھ تھک جائیں گے
یہ پرندے بھی کھیتوں کے مزدور ہیں
لوٹ کے اپنے گھر شام تک جائیں گے
دن میں پریوں کی کوئی کہانی نہ سُن
جنگلوں میں مسافر بھٹک جائیں گے
             بشیرؔبدر

2016-04-10

Abhi is taraf na nigaah kar main ghazal ki palken sanwaar loon

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں
مرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئینے میں اُتار  لوں
میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزار لوں
اگر آسماں کی نمائشوں  میں مجھے بھی اذنِ قیام ہو
تو میں موتیوں کی دکان سے تری بالیاں ترے ہار لوں
کہیں اور بانٹ دے شہر میں کہیں اور بخش دےعزتیں
میرے پاس ہے مرا آئینہ میں کبھی نہ گرد و غبار لوں
کئی اجنبی تری راہ میں مرے پاس سے یوں گزر گئے
جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی ترا نام لے کے پکار لوں

بشیرؔبدر

Woh chandni ka badan khushbuon ka saya hai

وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے

وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے
بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے
اُتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے
تمہیں خدا نے ہمارے لئے بنایا ہے
کہاں سے آئی یہ خوشبو، یہ گھر کی خوشبو ہے
اس اجنبی  کے اندھیرے میں کون آیا ہے
مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے
خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے
اُسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں
اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے
تمام عمر مرا دم اسی دُھوئیں میں گھٹا
وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے
                            بشیرؔ بدر

2016-04-09

Dua karo ke ye poda sada hara hi lage

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی  لگے

دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگے
اداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے
عجیب شخص ہے ناراض ہوکے ہنستا ہے
میں چاہتا ہوں خفا ہو تو وہ خفا ہی لگے
وہ زعفرانی پلوور اسی کا حصہ ہے
کوئی جو دوسرا پہنے تو دوسرا ہی لگے
نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی
یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے
                      بشیرؔبدر

Har bat mein mehke hue jazbaat ki khushboo

ہر بات میں مہکے ہوئے جذبات کی خوشبو

ہر بات میں مہکے ہوئے جذبات کی خوشبو
یاد  آئی بہت پہلی ملاقات کی خوشبو
چھپ چھپ کے نئی صبح کا منہ چوم رہی ہے
ان ریشمی زلفوں میں بسی رات کی خوشبو
موسم بھی حسینوں کی ادا سیکھ گئے ہیں
بادل ہیں چھپائے ہوئے برسات کی خوشبو
گھر کتنے ہی چھوٹے ہوں گھنے پیڑ ملیں گے
شہروں سے الگ ہوتی ہے قصبات کی خوشبو
ہونٹوں پہ ابھی پھول کی پتی کی مہک ہے
سانسوں میں رچی ہے تری سوغات کی خوشبو
                          بشیرؔبدر

Kis ne mujh ko sada di bata kaun hai

کس نے مجھ کو صدا دی بتا کون ہے

کس نے مجھ کو صدا دی بتا کون ہے
اے ہوا  تیرے گھر میں چھپا کون ہے
بارشوں میں کسی پیڑ کو دیکھنا
شال اوڑھے ہوئے بھیگتا کون ہے
خوشبوؤں میں نہائی ہوئی شاخ پر
پھول سامسکراتا ہوا کون ہے
میں یہاں دھوپ میں تپ رہا ہوں مگر
وہ پسینے میں ڈوبا ہوا کون ہے
دل کو پتھر ہوئے اک زمانہ ہوا
اس مکاں میں مگر بولتا کون ہے
آسمانوں کو ہم نے بتایا نہیں
ڈوبتی شام میں ڈوبتا کون ہے
تم بھی مجبور ہو ہم بھی مجبور ہیں
بے وفا کون ہے با وفا کون ہے
              بشیر ؔبدر

Muskurati hui dhanak hai wahi

مسکراتی ہوئی دھنک ہے وہی

مسکراتی ہوئی دھنک ہے وہی
اس بدن میں چمک دمک ہے وہی
پھول کُملا گئے   اجالوں کے
سانولی شام میں نمک ہے وہی
اب بھی چہرہ چراغ لگتا ہے
بجھ گیا ہے مگر چمک ہے وہی
وہ سراپا دیئے کی لو جیسا
میں ہوا ہوں  ادھر لپک ہے وہی
کوئی شیشہ ضرور ٹوٹا ہے
گنگناتی ہوئی کھنک ہے وہی
پیار کس کا مِلا ہے مٹی میں
اس چنبیلی تلے مہک ہے وہی
                   بشیرؔ بدر

2016-03-28

Pathar ke jigar walo gham mein woh rawani hai

پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے

پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے
پھولوں میں غزل رکھنا یہ رات کی رانی ہے
اس میں تری زلفوں کی بے ربط کہانی ہے
اک ذہنِ پریشان میں  وہ پھول سا چہرہ ہے
پتھر کی حفاظت میں شیشے کی جوانی ہے
کیوں چاندنی راتوں میں دریا پہ نہاتے ہو
سوئے ہوئے پانی میں کیا آگ لگانی ہے
اس حوصلۂ دل پر ہم نے بھی کفن پہنا
ہنس کر کوئی پوچھے گا کیا جان گنوانی ہے
رونے کا اثر دل پر رہ رہ کے بدلتا ہے
آنسو کبھی شیشہ ہے آنسو بھی پانی ہے
یہ شبنمی لہجہ ہے  آہستہ غزل پڑھنا
تتلی کی کہانی ہے پھولوں کی زبانی ہے
                      بؔشیر بدر

Sar pe saya sa dast e dua yad hai

سر پہ سایہ سا   دستِ دُعا یاد ہے

سر پہ سایہ سا  دست، دُعا یاد ہے
اپنے آنگن میں اک پیڑ تھا یاد ہے
جس میں اپنی پرندوں سے تشبیہ تھی
تم کو اسکول کی وہ دُعا یاد ہے
ایسا لگتا ہے ہر امتحاں کے لئے
زندگی کو ہمارا پتہ یاد ہے
میکدے میں اذاں سُن کے رویا بہت
اس شرابی کو دل سے خدا یاد ہے
میں پرانی حویلی کا پردہ مجھے
کچھ کہا یاد ہے کچھ سنا یاد ہے
            بؔشیر بدر

Doosron ko hamari sazain na de

دوسروں کو ہماری سزائیں نہ دے

دوسروں کو ہماری سزائیں نہ دے
چاندنی رات کو بددعائیں نہ دے
پھول سے عاشقی کا ہنر سیکھ لے
تتلیاں خود رکیں گی صدائیں نہ دے
سب گناہوں کا اقرار کرنے لگیں
اس قدر خوب صورت سزائیں نہ دے
میں درختوں کی صف کا بھکاری نہیں
بے وفا موسموں کی قبائیں نہ  دے
موتیوں کو چھپا  سیپیوں کی طرح
بے وفاؤں کو اپنی وفائیں نہ دے
میں بکھر جاؤں گا آنسوؤں کی طرح
اس قدر پیار سے بددعائیں نہ دے
                بشیؔر بدر

2016-03-25

Khuda ham ko aisi khudai na de

خُدا ہم کو  ایسی خدائی نہ دے

خُدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
خطاوار سمجھے کی دنیا تجھے
اب اتنی  ذیادہ صفائی نہ دے
ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے
غلامی کو برکت سمجھنے لگیں
اسیروں کو ایسی رہائی نہ دے
ابھی تو بدن میں لہو ہے بہت
قلم چھین کر روشنائی نہ دے
مجھے اپنی چادر میں یوں ڈھانپ لے
زمیں آسماں کچھ دکھائی نہ دے
خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دکھائی نہ دے
                   بشیرؔ بدر

2016-03-14

Kabhi yun bhi aa meri aankh mein ke meri nazar ko khabar na ho

کبھی یوں بھی آ میری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو

کبھی یوں بھی آ میری آنکھ میں کہ مری  نظر کو خبر نہ ہو
مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعدسحر نہ ہو
وہ بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے
تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو
مرے بازوؤں میں تھکی تھکی ابھی محوِ خواب ہے چاندنی
نہ اٹھے ستاروں کی پالکی ابھی آہٹوں کا گزر نہ ہو
یہ  غزل کہ جیسے ہرن کی آنکھ میں پچھلی رات کی چاندنی
نہ بجھے خرابے کی روشنی کبھی بے چراغ یہ گھر نہ ہو
کبھی دن کی دھوپ میں جھوم کے کبھی شب کے پھول کو چوم کے
یوں ہی ساتھ ساتھ چلیں سدا کبھی ختم اپنا سفر نہ ہو
                         بشیرؔبدر

2016-02-29

Is tarah sath nibhna hai dushwaar sa

اس طرح ساتھ نبھنا ہے دشوار سا

اس طرح ساتھ نبھنا ہے دشوار سا
تو بھی تلوار سا ، میں بھی تلوار سا
اپنا رنگِ غزل، اس کے رخسار سا
دل چمکنے   لگا  ہے   رُخِ   یار سا
اب ہے ٹوٹا سا دل خود سے بیزار سا
اس حویلی میں لگتا ہے دربار سا
خوب صورت سی پیروں میں زنجیر ہو
گھر میں بیٹھا رہوں میں گرفتار سا
میں فرشتوں کی صحبت کے لائق نہیں
ہم سفر کوئی   ہوتا   گنہگار   سا
گڑیا ، گڈے کو بیچا ، خریدا گیا
گھر سجایا  گیا   رات  بازار   سا
شام تک کتنے ہاتھوں سے گزروں گا میں
چائے خانے میں اُردو کے اخبار سا
بات کیا ہے کہ مشہور لوگوں کے گھر
موت کا سوگ ہوتا ہے تیوہار سا
زینہ زینہ اُترتا    ہوا   آئینہ
اس  کا  لہجہ   انوکھا  کھنک  دار  سا
             بشیر ؔبدر


Is tarah dunya mili shikwa gila jata raha

اس طرح دنیا ملی شکوہ گلہ جاتا رہا

اس طرح دنیا ملی شکوہ گلہ جاتا رہا
میں سمجھتا تھا مرا تیرے سوا کوئی نہیں
خط نہیں ہوں جس پہ تم راہوں کی تفصیلیں لکھو
اس کے گھر جاؤں گا میں جس کا پتہ کوئی نہیں
ایسا لگتا ہے کہ تو مجھ سے جدا ہو جاتے گا
تیرے میرے درمیان اب فاصلہ کوئی نہیں
اب تمہیں سچی محبت کا یقیں آجائے گا
اس بڑے شہرِ وفا میں بے وفا کوئی نہیں
میں  پیمبر تو نہیں لیکن مجھے احساس ہے
ان بُرے لوگوں میں بھی مجھ سا بُرا کوئی نہیں
                       بشیرؔ بدر

2016-02-28

Honton pe mohabbat ke fasane nahin aate

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے
ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے
پلکیں بھی چمک اُٹھتی ہیں سونے میں ہماری
آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے
دل اُجڑے ہوئے ایک سرائے کی  طرح ہے
اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے
یارو نئے موسم نے یہ احسان کئے ہیں
اب یاد   مجھے   درد پُرانے نہیں آتے
اُڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
اس شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیں
یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے
احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں
آتے ہیں مگر دل کو دُکھانے نہیں آتے
                         بشیر ؔبدر

So khuloos baton mein sab karam khayalon mein

سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں

سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
بس ذرا وفا کم ہے تیرے شہر والوں میں
پہلی بار نظروں نے چاند بولتے دیکھا
ہم جواب کیا دیتے کھو گئے سوالوں میں
رات تیری یادوں نے دل کو اس طرح چھیڑا
جیسے کوئی چٹکی لے نرم نرم گالوں میں
یُوں کسی کی آنکھوں میں صبح تک ابھی تھے ہم
جس طرح رہے شبنم پُھول کے پیالوں میں
میری آنکھ کے تارے اب نہ دیکھ پاؤ گے
رات کے مسافر تھے کھو گئے اُجالوں میں
                          بشیر ؔ بدر

2016-02-21

Chamak rahi hai paron mein udan ki khushboo

چمک رہی ہے پروں میں اُڑان کی خوشبو

چمک رہی ہے پروں میں اُڑان کی خوشبو
بُلا رہی ہے بہت آسمان کی خوشبو
بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے
حویلیوں میں مرے خاندان کی خوشبو
سُنا ہے کوئی کہانی ہمیں سُلاتی تھی
دعاؤں جیسی بڑے پاندان کی خوشبو
دبا تھا پھول کوئی میز پوش کے نیچے
گرج رہی تھی بہت پیچواں کی خوشبو
عجب وقار تھا سُوکھے سنہرے بالوں میں
اداسیوں کی چمک، زرد  لان کی خوشبو
وہ عطر دان سا لہجہ مرے بزرگوں کا
زَچی بسی ہوئی اُردو زبان کی خوشبو
خُدا کا شکر ہے میرے جوان بیٹے کے
بدن سے آنے لگی زعفران کی خوشبو
عمارتوں کی بلندی پہ کوئی مو سم کیا
کہاں سے آگئی کچے مکان کی خوشبو
گلوں پہ  لکھتی ہوئی  لاَ اِلہ اِلاّ اللہ
پہاڑیوں سے اترتی اذان  کی خوشبو
                   بشیرؔبدر