Showing posts with label Farhat Abbas Shah. Show all posts
Showing posts with label Farhat Abbas Shah. Show all posts

2016-02-15

Tune dekha hai kabhi aik nazar

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد  

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد  
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چپ چاپ کہ رستے بھی رہیں گے لا علم
چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
میں نے ایسے ہی گنہ تیری جدائی میں کئے
جیسے طوفاں میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد
شام سے پہلے وہ مست اپنی اڑانوں میں رہا
جس کے ہاتھوں میں تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد
رات  بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچا
کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد
تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
تو کسی روز میرے گھر میں اتر شام کے بعد
لوٹ  آئے نہ کسی روز وہ  آوارہ مزاج
کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد
                  فرحت عباس شاہ





2016-02-14

Udas shamain ujad raste


   اُداس شامیں، اُجاڑ رستے، کبھی بلائیں تو لوٹ آنا

اُداس  شامیں،  اُجاڑ رستے،  کبھی  بلائیں تو  لوٹ  آنا
کسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو  لوٹ آنا
ابھی نئی وادیوں،  نئے منظروں میں رہ لو مگر مری  جاں!
یہ سارے اک ایک کرکے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا
نئے زمانوں کا  کرب  اوڑھے ضعیف لمحے  نڈھال یادیں
تمہارے خوابوں کے بند کمروں میں لوٹ آئیں تو لوٹ آنا
اگر اندھیروں میں چھوڑ کر تم کو بھول جائیں تمہارے ساتھی
اپنی  خاطر  ہی  اپنے  اپنے  دیئے  جلائیں تو  لوٹ  آنا
مری  وہ باتیں  تو  جن  پر بے اختیار  ہنستا تھا   کھلکھلا  کر
بچھڑنے والے مری وہ باتیں کبھی  رلائیں تو  لوٹ  آنا
                       فرحت عباس شاہ