Showing posts with label Khwaja Mir Dard Dehlvi. Show all posts
Showing posts with label Khwaja Mir Dard Dehlvi. Show all posts

2016-04-17

Kya farq dagh o gul mein agar gul mein boo na ho

کیا فرق داغ و گل میں ، اگر گل میں بو نہ ہو

کیا فرق داغ و گل میں ، اگر گل میں بو نہ ہو
کس کام کا وہ دل ہے کہ جس دل میں تو نہ ہو
ہووے نہ حول و قوت اگر تیری درمیاں
جو ہم سے ہوسکے ہے ، سو ہم سے کبھو نہ ہو
جو کچھ کہ ہم نے کی ہے تمنّا ، ملی  ، مگر
یہ آرزو رہی ہے کہ کچھ آرزو نہ ہو
جوں شمع جمع ہوویں گر اہل  زباں ہزار
آپس میں چاہیے کہ کبھو گفتگو نہ ہو
جوں صبح ، چاکِ سینہ مرا ، اے رفو گراں
یاں تو کسو کے ہاتھ سے ہرگز رفو نہ ہو
اے درؔد ! زنگِ صورت اگر اس میں جا کرے
اہلِ صفا میں آئنۂ دل کو رُو نہ ہو
                  خواجہ میر درؔد دہلوی

Maane nahin hum woh but e khud kam kahin ho

مانع نہیں ہم  ، وہ بتِ خود کام کہیں ہو

مانع نہیں ہم ، وہ بتِ خود کام کہیں ہو
پر ، اس دلِ بےتاب کو آرام کہیں کو
خورشید کے مانند پھروں کب تئیں یا رب
نت صبح کہیں ہووے مجھے ، شام کہیں ہو
مے خانۂ عالم ہے وہ بے ربط کہ جس میں
ہووے جو صراحی کہیں، تو جام کہیں ہو
وعدے تو مرے ساتھ کیے تو نے ہزاروں
پر ، ایک بھی اِتنوں میں سر انجام کہیں ہو
ہر چند نہیں صبر تجھے درؔد ! ولیکن
اِتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام کہیں ہو
                  خواجہ  میر درؔد دہلوی

2016-04-16

Tohmat e chand apne zimme dhar chale

تہمتِ چند  اپنے ذمے دھر چلے

تہمتِ چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے
زندگی ہے یا کوئی  طوفان ہے !
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا
ایک دم آئے اِدھر اُودھر چلے
دوستو! دیکھا  تماشا یاں کا سب
تم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے
آہ ! بس مت جی جلا ، تب جانیے
جب کوئی افسوں ترا اُس پر چلے
ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوست
زخم کتنوں کے ، سُنا ہے ، بھر چلے
شمع کی مانند ، ہم اِس بزم میں
چشمِ تر آئے تھے ، دامن تر چلے
ڈھونڈتے ہیں آپ سے اُس کو پرے
شیخ صاحب چھوڑ گھر ، باہر چلے
ہم نہ جانے پائے باہر آپ سے
وہ ہی آڑے آگیا ، جیدھر چلے
ہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولے
ساتھ اپنے اب اُسے لے کر چلے
جوں شرر ، اے ہستیِ بے بود! یاں
بارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے
ساقیا ! یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
دردؔ ! کچھ معلوم ہے ، یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے، کیدھر چلے
                 خواجہ میر دردؔ دہلوی

Tere kehne se mein azbas ke bahir ho nahin sakta

ترے کہنے سے میں ازبس کہ باہر ہو نہیں سکتا

ترے کہنے سے میں ازبس کہ باہر ہو نہیں سکتا
ارادہ صبر کا کرتا تو ہوں ، پر ،  ہو نہیں سکتا
کہا جب میں، ترا بوسہ تو جیسے قند ہے پیارے
لگا تب کہنے ،   پر ، قندِ مکرر ہو نہیں سکتا
دلِ آوارہ اُلجھے یاں کسو کی زلف میں یا رب!
علاج  آوارگی کا  اس سے بہتر ہو نہیں سکتا
مری بے صبریوں کی بات سن کر سب سے کہتا ہے
تحمّل مجھ سے بھی تو حال سن کر ہو نہیں سکتا
کرے کیا فائدہ ناچیز کو تقلید  اچھوں کی
کہ جم جانے سے کچھ اولا تو گوہر ہو نہیں سکتا
نہیں چلتا ہے کچھ اپنا تو تیرے عشق کے آگے
ہمارے دل پہ کوئی اور  تو ور ہو نہیں سکتا
کہا میں ، یوں تو مل جاتے ہو آگر بعد مدت کے
اگر چاہو تو یہ کیا تم سے اکثر ہو نہیں سکتا
لگا کہنے ، سمجھ اس بات کو ٹک تو کہ جلد اتنا
ترے گھر آنے جانے میں ، مرا گھر ہو نہیں سکتا
بچوں کس طرح میں اے دردؔ اس کے تیغِ ابرو سے
کہ جس کے سامنے کوئی بھی جاں بر ہو نہیں سکتا
                          خواجہ میر دردؔ دہلوی