Showing posts with label Pir Naseer uddin Naseer. Show all posts
Showing posts with label Pir Naseer uddin Naseer. Show all posts

2016-04-06

Chorr doge tum hamain dushman ke behkane se kya

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا
یوں تمہیں مل جائے گا اپنوں کو تڑپانے سے کیا
لاکھ سمجھاؤ مگر ہوتا ہے سمجھانے سے کیا
ہوش کی باتیں کرو اُلجھو گے دیوانے سے کیا
آپ کی باتیں سُنیں واعظ !مگر مانیں نہیں
چوٹ کھاتا ، آپ جیسے جانے پہچانے سے کیا
رقص کے عالم میں ہو جیسے یہ سارا میکدہ
آنکھ ساقی نے ملا رکھی ہے  پیمانے سے کیا
خیر ،  ہم نے مان لی جو بات بھی تم نے کہی
تم کہو ، تم کو ملا جھوٹی قسم کھانے سے کیا
سامنے جب آگئے کیسی حیا ، کیسا حجاب
فائدہ اب منہ چھپانے اور شرمانے سے کیا
دیکھ زاہد ! بادۂ سر جوش کے چھینٹے نہ ہوں
تیرے دامن پر ہیں یہ تسبیح کے ” دانے سے“ کیا
ترکِ الفت اور پھر الفت بھی اس بے مثل کی
میں بہک جاؤں گا واعظ ! تیرے بہکانے سے کیا
آگ میں اپنی جلا کر خاک کر ڈالا اُسے
شمع ! آخر دشمنی  ایسی بھی  پروانے سے کیا
چارہ سازو ! کیوں دوا کرتے ہو ، مرجانے بھی دو
بزم ہوجائے کی سُونی میرے اُٹھ جانے سے کیا
مے کشی لازم نہیں ہے بزمِ ساقی میں نصیرؔ
کام جب آنکھوں سے چل جائے تو  پیمانے سے کیا
                      پیر نصیر الدین نصیرؔ

Uthe na the abhi hum haal e dil sunane ko

اُٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو
                            
اُٹھے نہ تھے ابھی ہم حالِ دل سنانے کو
زمانہ بیٹھ گیا حاشیے چڑھانے کو
بھری بہار میں پہنچی خزاں مٹانے کو
قدم اُٹھائے جو کلیوں نے مسکرانے کو
جلایا آتشِ گل نے چمن میں ہر تنکا
بہار پھونک گئی میرے آشیانے کو
جمالِ بادہ و ساغر میں ہیں رموز بہت
مری نگاہ سے دیکھو شراب خانے کو
قدم قدم پہ رُلایا ہمیں مقدر نے
ہم اُن کے شہر میں آئے تھے مسکرانے کو
نہ جانے اب وہ مجھے کیا جواب دیتے ہیں
سنا تو دی ہے اُنہیں داستاں ”سنانے کو“
کہو کہ ہم سے رہیں دور ، حضرتِ واعظ
بڑے کہیں کے یہ آئے سبق پڑھانے کو
اب ایک جشنِ قیامت ہی اور باقی ہے
اداؤں سے تو وہ بہلا چکے زمانے کو
شبِ فراق نہ تم آسکے نہ موت آئی
غموں نے گھیر لیا تھا غریب خانے کو
نصیرؔ ! جن سے توقع تھی ساتھ دینے کی
تُلے ہیں مجھ پہ وہی اُنگلیاں اُٹھانے کو
           پیر نصیر الدین نصیرؔ

2016-03-13

Khaak e pa un ki jahan bhi kahin payi jaye

خاکِ پا اُن کی جہاں بھی کہیں پائی جائے

خاکِ پا اُن کی جہاں بھی کہیں پائی جائے
دل یہ کہتا ہے کہ آنکھوں سے لگائی جائے
اُن کی تصویر ِ ستم کیوں نہ دکھائی جائے
منظرِ عام پہ یہ شکل بھی لائی جائے
شعلے اُٹھتے ہیں اگر دل میں ، نہ آنسو روکو
آگ لگ جائے تو لازم ہے بجھائی جائے
اک نظر دید کی توفیق عطا ہو ہم کو
کچھ نہ کچھ حُسن کی خیرات لُٹائی جائے
گفتگو شیشہ و ساغر کی عبث ہے ساقی !
ہم وہ پیتے ہیں جو آنکھوں سے پلائی جائے
بارہا کہہ تو چکے تم سے کہانی دل کی
کیا ضروری ہے کہ تحریر میں لائی جائے
آپ کیوں دل کی تمناؤں کو پامال کریں
رائگاں کیوں کسی مفلس کی کمائی جائے
حُسن کیا شے ہے، ادا کیا ہے، وہ خود کیسے ہیں
بات کھل جائے گی ، تصویر منگائی جائے
قیس و فرہاد کے افسانوں میں کیا رکھا ہے
داستاں میری مجھی کو نہ سنائی جائے
مجھ سے کہتا ہے نصؔیر اب کے برس جوشِ جنوں
کم سے کم ، خاک بیاباں کی اُڑائی جائے
                پیر نصیر الدین نصؔیر

Na aay tujh ko nazar tu magar udaas no ho

نہ آئے تجھ کو نظر ، تُو مگر اُداس  نہ ہو

نہ آئے تجھ کو نظر ، تُو مگر اُداس نہ ہو
تلاش کر ، وہ یہیں تیرے آس پاس نہ ہو
مجھے یقین نہیں ،  اُس کو تیرا پاس نہ ہو
ترا گمان نہ ہو ، یہ ترا قیاس نہ ہو
وہ اور کیا کرے آخر ، اگر اُداس نہ ہو
بغیر عشق نہ چین آئے ، عشق راس نہ ہو
یہ کس کو لوگ لیے جا رہے ہیں کاندھوں پر
کہیں یہ شخص تمہارا وفا شناس نہ ہو
بچھڑنے والوں کو اِک دن خدا ملاتا ہے
تجھے ہماری قسم ، اس قدر اُداس نہ ہو
یہ بندگی ہےکہ ہر حال میں ہو شکر اُس کا
ہزار کچھ ہو ، مگر کوئی ناسپاس نہ ہو
وہ ماجرا جو ہے مجنوں کے نام سے مشہور
کہیں ہمارے فسانے کا اقتباس نہ ہو
ضیائے علم و ہنر سے ہے آبروئے بشر
یہ روشنی تو ہو ، اُجلا اگر لباس نہ ہو
مزا تو جب ہے کہ ہو بات بات قند و نبات 
وہ بات زہر ہے جس بات میں مٹھاس نہ ہو
ہے ایک طنز کا نشتر ، دُعائے عمرِ دراز
اُس ایک شخص کو ، جینے کی جس کو آس نہ ہو
نصؔیر کھیل نہیں ہے شعورِ ذات و صفات
خدا شناس کہاں وہ ، جو خود شناس نہ ہو
         پیر نصیر الدین نؔصیر 

2016-03-11

Meri zindagi to firaq hai woh azal se dil main makin sahi


میری زندگی تو فراق ہےوہ ازل سے دل میں مکیں سہی

میری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل  میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دور ہے، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح وہ کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی ، تو ہمیں سہی
غمِ زندگی سے فرار کیا، یہ سکون کیوں، یہ قرار کیا
غمِ زندگی بھی ہے زندگی، جو نہیں خوشی تو نہیں سہی
سرِ طور ہو ، سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی، وہ کہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے ، تیری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری انجمن سے قریں سہی
تیرا در تو ہم کو نہ مل سکا، تیری رہگزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، وہ وہاں نہیں تو یہیں سہی
میری زندگی کا نقیب ہے ، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اس کا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
نہ ہو ان پہ جو میرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انہیں کا تھا میں انہیں کو ہوں وہ میرے نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پر نہ اٹھائیے
جو کریں گے آپ ستم وہاں، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی
انہیں دیکھنے کی جو لَو لگی جو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہوں ہو ہزار پردہ نشیں سہی
                          پیر نصیر الدین نصیرؔ