Showing posts with label Mohsin Naqvi. Show all posts
Showing posts with label Mohsin Naqvi. Show all posts

2016-03-22

Kabhi jo chhair gai yaad e raftgan Mohsin

کبھی جو چھیڑ گئی یادِ رفتگاں محسنؔ

کبھی جو چھیڑ گئی یادِ رفتگاں محسنؔ
بکھر گئی ہیں نگاہیں کہاں کہاں محسنؔ
ہوا نے راکھ اُڑائی تو دل کو یاد آیا
کہ جل بجھیں مرے خوابوں کی بستیاں محسنؔ
کچھ ایسے گھر بھی ملے جن میں گھونگھٹوں کے عوض
ہوئی ہیں دفن دوپٹوں میں لڑکیاں محسنؔ
کھنڈر ہے عہدِ گزشتہ ، نہ چھو نہ چھیڑ اسے
کھلیں تو بند نہ ہوں اس کی کھڑکیاں محسنؔ
بجھا ہے کون ستارہ کہ اپنی آنکھ کے ساتھ
ہوئے ہیں سارے مناظر دُھواں دُھواں محسنؔ
نہیں کہ اُس نے گنوائے ہیں ماہ و سال اپنے
تمام عمر کٹی یوں بھی  رائیگاں محسنؔ
ملا تو اور بھی تقسیم کر گیا مجھ کو
سمیٹنا تھیں جسے میری کرچیاں محسنؔ
کہیں سے اُس نے بھی توڑا ہے خود سے ربطِ وفا
کہیں سے بھول گیا میں بھی داستاں محسنؔ
                       محسنؔ نقوی

2016-03-11

Maqrooz ke bigray hue halaat ki manind

مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد مکانات کی مانند
میں ان میں بھٹکتے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
کس درجہ مقدّس ہے ترے قرب کی خواہش
معصوم سے بچّے کے خیالات کی مانند
محسنؔ اسے ملنا مرا ممکن ہی نہیں ہے
میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند
                     محسنؔ نقوی

Main ne is tor se chaha tujhe aksar janan

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں!
            
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں!
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اُترے
جیسے خوشبو کو ہوا، رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا  مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کمان ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ پا  مانگتے ہیں
میرا ہر خواب میرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تیری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا  اپنا!
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید  کا موسم کبھی دھندلا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانے کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لیے
توڑ ڈالی ہیں  ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ تیرے حسن کی گلنار فضا
میری  غزلوں کی قطاروں سے مہکتی جائے
میں نے چاہا کہ میرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں میں تکلم تیرا
رقص کرتا رہے، بھرتا رہے، خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تکلم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تو تھی لیکن تو بھی
چارۂ زخمِ غمِ دیدۂ تر کر نہ سکی
تجھ کو معلوم ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں!
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تیری دید کا منظر جاناں!
مجھ سے مانگے گا تیرے عہدِ محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں!
یوں میرے دل کے برابر تیرے غم آیا ہے
جیسے  شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں!
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں!!!!
              محسؔن نقوی

2016-03-02

Saya e gul se behr tor juda ho jana

سایۂ گل سے بہر طور جُدا ہو جانا

سایۂ گل سے بہر طور جُدا ہو جانا
راس آیا نہ مجھے موجِ  صبا ہو  جانا
اپنا ہی جسم مجھے تیشۂ فرہاد لگا
میں نے چاہا تھا پہاڑوں کی صدا ہوجانا
موسمِ گل کے تقاضوں سے بغاوت ٹھہرا
قفسِ غنچہ سے خوشبو کا رِہا ہوجانا
قصرِ آواز میں اک حشر جگا دیتا ہے
اس حسیں شخص کا تصویر نما ہوجانا
راہ کی گرد سہی، مائلِ پرواز تو ہوں
مجھ کو آتا ہے تِرا "بندِقبا" ہوجانا
زندگی تیرے تبسّم کی وضاحت تو نہیں
موجِ طوفاں کا اُبھرتے ہی فنا ہوجانا
کیوں نہ اُس زخم کو میں پھول سے تعبیر کروں
جس کو آتا ہو ترا "بندِ قبا" ہو جانا
اشکِ کم گو! تجھے لفظوں کی قبا گر نہ ملے
میری پلکوں کی زباں سے ہی ادا ہوجانا
قتل گاہوں کی طرح سرخ ہے رستوں کی جبیں
اک قیامت تھا مرا آبلہ پا ہو جانا
پہلے دیکھو تو سہی اپنے کرم کی وسعت
پھر بڑے شوق سے تم میرے خدا ہوجانا
بے طلب درد کی دولت سے نوازو مجھ کو
دل کی توہین ہے مرہونِ دُعا ہوجانا
میری آنکھوں کے سمندر میں اترنے والے
کون جانے تری قسمت میں ہےکیا ہوجانا
کتنے خوبیدہ مناظر کو جگائے محسنؔ !
جاگتی آنکھ کا پتھرایا ہوا ہو جانا
     محسنؔ نقوی


Main chup raha ke zehr yahi mujh ko raas tha

میں چُپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا

میں چُپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگِ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آگئی جسے !
کل مل گیا تو وہ بھی دریدہ لباس تھا
میں ڈھونڈتا تھا دور خلاؤں میں ایک جسم
چہروں کا اِک ہجوم مرے آس پاس تھا
تم خوش تھے پتھروں کو خدا جان کے مگر
مجھ کو یقین ہے وہ تمہارا قیاس تھا
بخشا ہے جس نے روح کو زخموں کا پیرہن
محسنؔ وہ شخص کتنا طبیعت شناس تھا
                   محسنؔ نقوی

Yun bhi khizan ka roop suhana laga mujhe

یوں بھی خزاں کا روپ سہانا لگا مجھے

یوں بھی خزاں کا روپ سہانا لگا مجھے
ہر پھول فصلِ گل میں پرانا لگا مجھے
میں کیا کسی پہ سنگ اُٹھانے کی سوچتا
اپنا ہی جسم آئینہ خانہ لگا مجھے
اے دوست! جھوٹ عام تھا دنیا میں اس قدر
تو نے بھی سچ کہا تو فسانہ لگا مجھے
اب اُس کو کھو رہا ہوں بڑے اشتیاق سے
وہ جس کو ڈھونڈنے میں زمانہ لگا مجھے
محسنؔ ہجومِ یاس میں مرنے کا شوق بھی
جینے کا اِک حسین بہانہ لگا مجھے
            محسنؔ نقوی

Wo bhi kya din the ke pal mein kardya karte the hum

وہ بھی کیا دن تھے کہ پَل میں کردیا کرتے تھے ہم
     
وہ بھی کیا دن تھے کہ پَل میں کردیا کرتے تھے ہم
عمر بھر کی چاہتیں ، ہر ایک ہرجائی کے نام
وہ بھی کیا موسم تھے جن کی نکہتوں کے ذائقے
لکھ دیا کرتے تھے خال و خد کی رعنائی کے نام
وہ بھی کیا صبحیں تھیں جن کی مسکراہٹ کا فسوں
وقف تھا اہلِ وفا کی بزم آرائی کے نام
وہ بھی کیا شامیں تھیں جن کی شہرتیں منسوب تھیں
بے سبب کھلتے ہوئے بالوں کی رسوائی کے نام
اب کے وہ رُت ہے کہ ہر تازہ قیامت کا عذاب
اپمے دل میں جاگتے زخموں کی گہرائی کے نام
اب کے اپنے آنسوؤں کے سب شکستہ آئینے
کچھ زمانے کے لئے ، کچھ اپنی تنہائی کے نام

   محسنؔ نقوی

2016-02-20

Chehre padhta aankhain likhta rehta hoon

چہرے پڑھتا آنکھیں لکھتا رہتا ہوں

چہرے پڑھتا آنکھیں لکھتا رہتا ہوں
میں بھی کیسی باتیں لکھتا رہتا  ہوں
سارے جسم درختوں جیسے لگتے ہیں
اور بانہون کو شاخیں لکھتے رہتا ہوں
تجھ کوخط لکھنے کے تیور بھول  گئے
آڑھی ترچھی سطریں لکھتا رہتا ہوں
تیرے ہجر میں اور مجھے کیا کرنا ہے
تیرے نام کتابیں لکھتا رہتا ہوں
تیری زلف کے سائے دھیان میں رہتے ہیں
میں صبحوں کو شامیں لکھتا رہتا ہوں
اپنے پیار کی پھول مہکتی راہوں میں
لوگوں کو دیواریں لکھتا رہتا ہوں
تجھ سے مل کر سارے دکھ دہراؤں گا
ہجر کی ساری باتیں لکھتا رہتا ہوں
سوکھے پھول، کتابیں، زخم جدائی کے
تیری سب سوغاتیں لکھتا رہتا ہوں
اس کی بھیگی پلکیں ہنستی رہتی ہیں
محسؔن جب تک غزلیں لکھتا رہتا ہوں
 محسؔن نقوی

Ab teri yad se wehshat nahi hoti mujh ko

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

اب تری یاد سے وحشت نہین ہوتی مجھ کو
زخم کھلنے  سے اذیّت  نہیں ہوتی مجھ کو
اب کوئی آئے ، چلا جائے،  میں خوش رہتا ہوں
اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو
ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی   پی  کر
جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی  مجھ کو
ہے امانت میں خیانت ، سو کسی کی خاطر
کوئی مرتا ہے تو  حیرت نہیں ہوتی مجھ کو
تو جو بدلے تری تصویر بدل جاتی ہے
رنگ بھرنے میں سہولت نہیں ہوتی مجھ کو
اکثر اوقات میں تعبیر بتا دیتا  ہوں
بعض اوقات اجازت نہیں ہوتی مجھ کو
اتنا مصروف ہوں  جینے کی ہوس میں محسؔن
سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو
                   محسؔن نقوی