Showing posts with label Ahmed Faraz. Show all posts
Showing posts with label Ahmed Faraz. Show all posts

2016-04-12

Main ne aghaz se anjam e safar jana hai

میں نے آغاز سے انجامِ سفر جانا ہے

میں نے آغاز سے انجامِ سفر جانا ہے
سب کو دو چار قدم چل کے ٹھہر جانا ہے
غم وہ صحرائے تمنّا کہ بگولے کی طرح
جس کو منزل نہ ملی اس کو بکھر جانا ہے
تیری نظروں میں مرے درد کی قیمت کیا تھی
میرے دامن نے تو آنسو کو گہر جانا ہے
اب کے بچھڑے تو نہ پہچان سکیں گے چہرے
میری چاہت ترے پندار کو  مر جانا ہے
جانے والے کو نہ روکو کہ بھرم رہ جائے
تم پکارو بھی تو کب اس کو ٹھہر جانا ہے
تیز سورج میں چلے آتے ہیں میری جانب
دوستوں نے مجھے  صحرا کا شجر جانا ہے
زندگی کو بھی ترے در سے بھکاری کی طرح
ایک پل کے لیے رُکنا ہے گزر جانا ہے
اپنی افسردہ مزاجی کا برا ہو کہ فراؔز
واقعہ کوئی بھی ہو آنکھ کو بھر جانا ہے
                        احمد فراؔز

Tujh se bichar ke hum bhi muqaddar ke ho gaye

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہوگئے

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہوگئے
پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہوگئے
پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا
اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہوگئے
کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے
اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہوگئے
اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں
اے درد ِ ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہوگئے
سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحانِ شہر
پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہوگئے
اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کہ ہم
اب کے گئے تو کوئے ستم گر کے ہوگئے
روتے ہو اک جزیرۂ جاں کو فراؔز تم
دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہوگئے
                   احمد فراؔز

Abr e bahar ab ke bhi barsa parey parey

ابرِبہار  اب کے بھی برسا پرے پرے

ابرِ بہار اب کے بھی برسا پرے پرے
گلشن اُجاڑ اُجاڑ ہیں جنگل ہرے ہرے
جانے یہ تشنگی ہے ہوس ہے کہ خودکشی
جلتے ہیں شام ہی سے جو ساغر بھرے بھرے
ہے دل کی موت عہدِ وفا کی شکستگی
پھر بھی جو کوئی ترکِ محبت کرے کرے
اب اپنا دل بھی شہرِ خموشاں سے کم نہیں
سُن ہوگئے ہیں کان صدا پر دھرے دھرے
رہتے ہیں اہلِ شہر کے سائے سے دور دور
ہم آہوانِ دشت کی صورت ڈرے ڈرے
گل بن کے پھوٹتا ہے لہو شاخسار سے
زخم ِ رگِ بہار ہیں پتے ہرے ہرے
زندہ دلانِ شہر کو کیا ہوگیا  فراؔز
آنکھیں بجھی بجھی ہیں تو چہرے مرے مرے
                         احمد فراؔز

2016-04-02

Jism shula hai jabhi jama e sada pehna

جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنا

جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنا
میرے سورج نے بھی بادل کا لبادہ پہنا
سلوٹیں ہیں میرے چہرے پہ حیرت کیوں ہے
زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا
خواہشیں یوں ہی برہنہ ہوں تو جل بجھتی ہیں
اپنی چاہت کو کبھی کوئی ارادہ پہنا
یار خوش ہیں کہ انھیں جامۂ احرام ملا
لوگ ہنستے ہیں کہ قامت سے زیادہ پہنا
یارِ پیمان شکن آئے اگر اب تو اسے
کوئی زنجیرِ وفا اے شبِ وعدہ پہنا
غیرتِ عشق تو مانع تھی مگر میں نے فؔراز
دوست کا طوق سرِ محفلِ اعدا پہنا
                     احمد فؔراز

﷽Barson ke baad dekha ek shakhs dilruba sa

برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دِلربا  سا

برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دِلربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا
ابرُو کھچے کھچے سے آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رُکی رُکی سی  لہجہ تھکا تھکا سا
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
بن بائے جنگلوں میں جس طرح راستا سا
خوابوں میں خواب اسکے یادوں میں یاد اسکی
نیندوں میں گھُل گیا ہو جیسے کہ رتجگا سا
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں
وہ ہر طرح سے لیکن اوروں  سے تھا جدا سا
اگلی محبتوں نے وہ نامرادیاں دیں !
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا
کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے
کچھ زہر میں بجھا تھا احباب کا دلاسا
پھر یوں ہوا کہ ساون آنکھوں میں آبسے تھے
پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا
اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی
بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا
تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا
ہم دشت تھے کہ دریا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہیں تھا پیاسا
ہم نے بھی اس کو دیکھا کل شام اتفاقاً
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فرؔاز کا سا
                      احمد فؔراز

2016-03-26

Udaas aur zeyada kahin na hojain

اداس اور زیادہ کہیں نہ ہو جا ئیں

اداس اور زیادہ کہیں نہ ہو جا ئیں
فراؔز انجمنِ دوست سے چلو جائیں
نہ اجنبی، نہ مسافر، نہ شہر والے ہیں
کوئی پکارو کہ ہم بھی کسی کے ہوجائیں
جو صدمے ہم پہ گزرنے ہیں وہ تو گزریں گے
مگر یہ آپ کو غم کیوں ہے آپ تو جائیں
اُلجھتے ہیں ترے سودائیوں سے اہلِ خرد
یہ سادہ لوح بھی پاگل کہیں نہ ہوجائیں
زمانہ اپنی پریشانیوں میں کھویا ہے
چلو کہ منزلِ جاناں کو دوستو جائیں
شبِ فراق تو کٹتی نظر نہیں آتی
خیالِ یار میں آؤ فراؔز سوجائیں
              احمد فرازؔ

Inkar na iqrar bari dair se chup hain

انکار  نہ اقرار بڑی دیر سے چُپ ہیں

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چُپ ہیں
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چُپ ہیں
آسان نہ کردی ہو کہیں موت نے مشکل
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چُپ ہیں
اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ
بام و در و دیوار بڑی دیر سے چُپ ہیں
ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے
ساقی ترے میخوار بڑی دیر سے چُپ ہیں
یہ برق نشیمن پہ گری تھی کہ قفس پر
مرغانِ گرفتار بڑی دیر سے چُپ ہیں
اِس شہر میں ہر جنس بنی یوسفِ کنعاں
بازار کے بازار بڑی دیر سے چُپ ہیں
                     احمد فراؔز


Sakoot e shab hi sitam ho to ham uthain bhi

سکوتِ شب ہی ستم ہو تو ہم اُٹھائیں بھی

سکوتِ شب ہی ستم ہو تو ہم اُٹھائیں بھی
وہ یاد آئے تو چلنے لگیں ہوائیں بھی
یہ شہر میرے لیے اجنبی نہ تھا لیکن
تمہارے ساتھ بدلتی گئیں فضائیں بھی
جو بزمِ دوست سے اُٹھ کر چلے بزعمِ تمام
کوئی پکارے تو شاید وہ لوٹ آئیں بھی
دلوں کا قرب کہیں فاصلوں سے مٹتا ہے
یہ خود فریب  ترا شہر چھوڑ جائیں بھی
ہم ایسے لوگ جو آشوب ِ دہر میں بھی ہیں خوش
عجب نہیں ہے اگر تجھ کو بھول جائیں بھی
سحر گزیدہ ستاروں کا نور بُجھنے لگا
فراؔز اُٹھّو اب اُس کی گلی سے جائیں بھی
                                احمد فراؔز

2016-03-20

Har aik dil ko talab har nazar sawali hai

ہر ایک دل کو طلب ہر نظر سوالی ہے

ہر ایک دل کو طلب ہر نظر سوالی ہے
کہ شہرِ حُسن میں جلوؤں کی قحط سالی ہے
کہاں ہے دوست کہ آشوبِ دہر سے میں نے
ترے خیال کی آسودگی بچالی ہے
بتا رہا ہے فضا کا اٹوٹ سناٹا
افق سے پھر کوئی آندھی اُترنے والی ہے
لرز رہے ہیں شگوفے چمن میں کھلتے ہوئے
حنائے دستِ صبا میں لہو کی لالی ہے
پیئو شراب کہ ناصح نے زہر بھی دے کر
ہماری جُرأتِ رندانہ آزمالی ہے
پھر آھ دانۂ گندم کے سلسلے میں فؔراز
کسی خدا  نے مری خلد بیچ ڈالی ہے
                      احمد فؔراز

Agar kisi se marasim barhane lagte hain

اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں

اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں
ترے فراق کے دُکھ یاد آنے لگتے ہیں
ہمیں ستم کا گلہ کیا کہ یہ جہاں والے
کبھی کبھی ترا دل بھی دُکھانے لگتے ہیں
سفینے  چھوڑ کے ساحل چلے تو ہیں لیکن
یہ دیکھنا ہے کہ اب کس ٹھکانے لگتے ہیں
پلک جھپکتے ہی دنیا اُجاڑ دیتی ہے
وہ بستیاں جنھیں بستے زمانے لگتے ہیں
فؔراز ملتے ہیں غم بھی نصیب والوں کو
ہر اک کے ہاتھ کہاں یہ خزانے لگتے ہیں
                     احمد فؔراز

Tum zamana aashna, tum se zamana aashna

تم زمانہ آشنا، تم سے زمانہ آشنا

تم زمانہ آشنا، تم سے زمانہ آشنا
اور ہم اپنے لیے بھی اجنبی ناآشنا
راستے بھر کی رفاقت بھی بہت ہے جانِ من
ورنہ منزل پر پہنچ کر کون کس کا آشنا
اب کے ایسی آندھیاں اُٹھیں کہ سورج بجھ گئے
ہائے وہ شمعیں کہ جھونکوں سے  بھی تھیں ناآشنا
مدّتیں گزریں اِسی بستی میں لیکن اب تلک
لوگ نا واقف، فضا بیگانہ، ہم نا آشنا
ہم بھرے شہروں میں بھی تنہا ہیں جانے کس طرح
لوگ ویرانوں میں کرلیتے ہیں پیدا آشنا
خلق شبنم کے لیے دامن کشا صحراؤں میں
کیا خبر ابرِ کرم ہے صرف دریا آشنا
اپنی بربادی پہ کتنے خوش تھے ہم لیکن فؔراز
دوست دشمن کا نکل آیا ہے اپنا آشنا
                    احمد فرؔاز

Teri batain hi sunane aaye

تیری باتیں ہی سنانے آئے    

تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے
ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے
ہم تجھے حال سنانے آئے
عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم
کون یہ بوجھ اٹھانے آئے
اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم
کچھ تجھے یاد دلانے آئے
دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام
کاش پھر کوئی بلانے آئے
اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے
شاید اب ہوش ٹھکانے آئے
کیا کہیں پھر کوئی بستی اُجڑی
لوگ کیوں جشن منانے آئے
سو رہو موت کے پہلو میں فؔراز
نیند کس وقت نہ جانے آئے
              احمد فؔراز

2016-03-17

Ab is shauq se ke jan se guzar nana chahiye

اب اس  شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے 

اب اس شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیے
بول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیے
کب تک اسی کو آخری منزل کہیں گے ہم
کوئے مراد سے ابھی ادھر جانا چاہیے
وہ وقت آ گیا ہے کہ ساحل کو چھوڑ کر
گہرے سمندروں میں اتر جانا چاہیے
اب رفتگاں کی بات نہیں کارواں کی ہے
جس سمت بھی ہو گردِ سفر جانا چاہیے
کچھ تو ثبوتِ خونِ تمنا کہیں ملے
ہے دل تہی تو آنکھ کو بھر جانا چاہیے
یا اپنی خواہشوں کو مقدس نہ جانتے 
یا خواہشوں کے ساتھ ہی مرجانا چاہیے
                     احمد فؔراز


Tere qareeb aake bari uljhano mein hoon

تیرے قریب  آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
مجھ سے گریز ِ پا ہے تو ہر راستہ بدل !
میں سنگِ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں
تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں
بے درد میں ابھی انہی گہرائیوں میں ہوں
اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں
کب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں
تو لوُٹ کر بھی اہلِ تمنا کو خوش نہیں
میں لُٹ کے بھی وفا کے انہیں قافلوں میں ہوں
بدلہ نہ میرے بعد بھی موضوعِ گفتگو
میں جا چکا ہوں پھر بھی تری محفلوں میں ہوں
مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ میں بھی ترے خواہشوں میں ہوں
تو ہنس رہا ہے مجھ پہ مرا حال دیکھ کر
اور پھر بھی میں شریک ترے قہقہوں میں ہوں
خود بھی مثالِ لالۂ صحرا لہو لہو
اور خود فؔراز اپنے تماشائیوں میں ہوں
                        احمد فؔراز

Har aashna mein kahan khoo e mehrmana woh

ہر آشنا میں کہاں خوئے محرمانہ وہ

ہر آشنا میں کہاں خوئے محرمانہ وہ
کہ بے وفا تھا مگر دوست تھا پرانا وہ
کہاں سے لائیں اب آنکھیں اسے کہ رکھتا تھا
عداوتوں میں بھی انداز مخلصانہ وہ
جو ابر تھا تو اسے ٹوٹ کر برسنا تھا 
یہ کیا کہ آگ لگا کر ہوا روانہ وہ
پکارتے ہیں مہ و سال منزلوں کی طرح
لگا ہے توسنِ ہستی کو تازیانہ وہ
ہمیں بھی  غم طلبی کا  نہیں رہا یارا
ترے بھی رنگ نہیں گردشِ زمانہ وہ
اب اپنی خواہشیں کیا کیا اسے رلاتی ہیں
یہ بات ہم نے کہی تھی مگر نہ مانا وہ
یہی کہیں گے کہ بس صورت آشنائی تھی
جو عہد ٹوٹ گیا یاد کیا دلانا وہ
اس ایک شکل میں کیا کیا نہ صورتیں دیکھیں
نگار تھا نظر آیا نگار خانہ وہ
فؔراز خواب سی غفلت دکھائی دیتی ہے
جو لوگ جانِ جہاں تھے ہوئے فسانہ وہ
             احمد فؔراز

2016-03-09

Kab ham ne kaha tha hamain dastar o qaba do

کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو

کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو
ہم لوگ نوا گر  ہیں ہمیں اِذنِ نوا دو
ہم آئینے لائے ہیں سرِ کوُئے رقیباں
اے سنگ فروشو یہی الزام لگا دو
لگتا ہے کہ میلہ سا لگا ہے سرِمقتل
اے دل زدگاں بازوئے قاتل کو دعا دو
ہے بادہ گساروں کو تو میخانے  سے نسبت
تم مسندِ ساقی پہ کسی کو بھی بٹھادو
میں شب کا بھی مجرم تھا سحر کا بھی گنہگار
لوگو مجھے اس شہر کے آداب سکھا دو
           احمد فرازؔ

Ye main bhi kya hoon use bhool kar usi ka raha

یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر اسی کا رہا

یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر اسی کا رہا
کہ جس کے ساتھ نہ تھا ہمسفر اسی کا رہا
وہ بت کہ دشمنِ دیں تھا بقول ناصح کے
سوالِ سجدہ جب آیا تو در اسی کا رہا
ہزار چارہ گروں مے ہزار باتیں کیں
کہا جو دل مے سخن معتبر اسی کا رہا
بہت سی خواہشیں  سو بارشوں میں بھیگی ہیں
میں کس طرح سے کہوں عمر بھر اسی کا رہا
کہ اپنے حرف کی توقیر جانتا تھا فرازؔ
اسی لئے کفِ قاتل پہ سر اسی کا رہا
                    احمد فرازؔ

2016-03-03

Le uda phir koi khayal hamein

لے اُڑا پھر کوئی خیال ہمیں

لے اُڑا پھر کوئی خیال ہمیں
ساقیا ساقیا سنبھال ہمیں
رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے
ورنہ اتنا نہیں ملال ہمیں
خلوتی ہیں ترے جمال کے ہم
آئینے کی طرح سنبھال ہمیں
مرگِ انبوہ ، جشنِ شادی ہے
مل گئے دوست حسبِ حال ہمیں
اختلافِ جہاں کا رنج نہ تھا
دے گئے مات ہم خیال ہمیں
کیا توقع کریں زمانے سے
ہو بھی گر جُرأتِ سوال ہمیں
ہم یہاں بھی نہیں ہیں خوش لیکن
اپنی محفل سے مت نکال ہمیں
ہم ترے دوست ہیں فؔراز مگر
اب نہ اور اُلجھنوں میں ڈال ہمیں
             احمد فؔراز

Ajeeb rut thi ke har chand pas tha wo bhi

عجیب رت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی

عجیب رت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی
بہت ملول تھا میں بھی ،   اداس تھا وہ بھی
کسی کے شہر میں کی گفتگو ہواؤں سے
یہ سوچ کر کہ کہیں آس پاس تھا وہ بھی
ہم اپنے زعم میں خوش تھے کہ اس کو بھول چکے
مگر گمان تھا یہ بھی ، قیاس تھا وہ بھی
کہاں ہے اب غم دنیا کہاں ہے اب غم جاں
وہ دن بھی تھے کہ ہمیں یہ بھی راس تھا وہ بھی
فرازؔ تیرے گریباں پہ کل جو ہنستا تھا 
اسے ملے تو دریدہ لباس تھا وہ بھی
                     احمد فرازؔ