Showing posts with label Munir Niazi. Show all posts
Showing posts with label Munir Niazi. Show all posts

2016-04-14

Ashk e rawan ki nehar hai aur hum hain dosto

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا  زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
دل کو  ہجومِ  نکہتِ  مہ سے لہو  کیے
راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
پھرتے ہیں مثلِ موجِ ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
                     منیؔر نیازی

2016-02-25

Apni hi taigh e ada se aap ghayal hogya

اپنی ہی تیغِ ادا سے آپ گھائل ہوگیا

اپنی ہی تیغِ ادا سے آپ گھائل ہوگیا
چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہوگیا
وہ ہوا تھی شام ہی سے رستے خالی ہوگئے
وہ گھٹا برسی کہ سارہ شہر جل تھل ہوگیا
میں اکیلا اور سفر کی شام رنگوں میں ڈھلی
پھر یہ منظر میری نظروں سے بھی اوجھل ہوگیا
اب کہاں ہوگا وہ اور ہوگا بھی تو ویسا کہاں
سوچ کر یہ بات جی  کچھ اور بوجھل ہوگیا
حسن کی دہشت عجب تھی وصل کی شب میں منؔیر
ہاتھ جیسے انتہائے شوق سے شل ہوگیا
                        منؔیر نیازی

2016-02-23

Ajab rang rangeen qabaon mein the

عجب رنگ رنگیں قباؤں میں  تھے

عجب رنگ رنگیں قباؤں میں تھے
دل و جان جیسے بلاؤں میں تھے
طلسمات ہونٹوں پہ، آنکھوں میں غم
نئے زیوارت ان کے پاؤں میں تھے
مہک تھی ترے پیرہن میں کہیں
اندیشے سے شب کی ہواؤں میں تھے
ذرا پی کے دیکھا جو چاروں طرف
مکان و مکیں سب خلاؤں میں تھے
یہ شعلے جو سڑکوں پہ پھرتے ہیں اب
پہاڑوں کی کالی گپھاؤں میں تھے
اگر روک   لیتے تو  جاتا   نہ   وہ
مگر ہم بھی اپنی ہواؤں میں تھے
کلر  بکس   جیسے   کھلا   تھا   منیرؔ
کچھ ایسے ہی منظر فضاؤں میں تھے
             مؔنیر نیازی

Phool the badal bhi tha aur wo haseen

پھول تھے ، بادل بھی تھا اوروہ حسیں صورت بھی تھی

پھول تھے، بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھی
دل میں لیکن اور  ہی اک شکل   کی    حسرت بھی  تھی
جو  ہوا   میں   گھر   بنائے   کاش    کوئی    دیکھتا 
دشت   میں رہتے تھے   پر تعمیر کی عادت بھی تھی
کہہ گیا میں سامنے   اس کے   جو   دل کا   مدّعا
کچھ تو موسم بھی عجب تھا ،  کچھ مری ہمت بھی تھی
اجنبی شہروں میں   رہتے عمر   ساری   کٹ گئی
گو ذرا سے فاصلے پر گھر کی   ہر راحت  بھی تھی
کیا   قیامت    ہے مؔنیر   اب یاد بھی آتے نہیں
وہ پرانے آشنا   جن سے ہمیں   الفت بھی تھی
                منیرؔ  نیازی

2016-02-22

Sham aai hai sharabe taiz peena chahiye

شام آئی ہے شرابِ تیز پینا چاہیے

شام آئی ہے شرابِ تیز پینا چاہیے
ہو چکی ہے دیر اب زخموں کو سینا چاہیے
مر گئے تو پھر کہاں یہ حسن زارِ زندگی
زخمِ دل گہرا بہت ہے پھر بھی جینا چاہیے
آج وہ  کس  دھج سےسیرِگلستاں میں محو ہے
چھپ کےاس کے ہاتھ سےوہ پھول چھینا  چاہیے
ابر ہو چھایا ہوا اور باغ ہو مہکا ہوا
گود میں گلفام ہو اور پاس مینا چاہیے
جا بجا میلے لگے ہیں لال ہونٹوں کے منؔیر
تیرگی میں دیکھنے کو چشمِ بینا چاہیے
          منؔیر نیازی