Showing posts with label Urdu Nazam. Show all posts
Showing posts with label Urdu Nazam. Show all posts

2016-04-19

Dil ghani hai dua se kya lena

دل غنی ہے دعا سے کیا  لینا

دل غنی ہے دعا سے کیا  لینا
بے ضرورت خدا  سے کیا  لینا
اپنی مرضی سے کچھ عطا   فرما
ہم کو اپنی رضا سے  کیا   لینا
 دردِ سر کا علاج پتھر  ہے
ہوشمندو ! صبا سے کیا لینا
لذّتِ درد ، ایک چیز تو ہے
درد والو ! دوا سے کیا  لینا
دانشِ راہزن سے کچھ مانگو
حکمتِ رہنما سے کیا لینا
آپ کا جور بھی غنیمت ہے
آپ کو اعتنا سے کیا لینا
مدّعا کے لیے سخن ، ہے ہے
خامشی کو صدا سے کیا لینا
بلبلے کی فنا ، نشاطِ ابد
زندگی کو بقا سے کیا لینا
ہم کو تیری جفا سے کیا نہ ملا
ہم کو تیری وفا سے کیا لینا
ہم فقیروں کی مشت میں سلطاں
ہم کو بالِ ہما سے کیا لینا
بت پرستی ہے نقد کا سودا
چھپنے والے خدا سے کیا لینا
اب سرِ شوق ہی نہیں باقی
اب ترے نقشِ پا سے کیا لینا
اے شہِ وقت ! اپنا رزق سنبھال
تجھ کو رزقِ گدا سے کیا لینا
مل گیا جو ازل میں ملنا تھا
اے عدؔم ماسوا سے کیا لینا
         عبدالحمید عدمؔ

2016-04-06

Chorr doge tum hamain dushman ke behkane se kya

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا

چھوڑ دو گے تم ہمیں دشمن کے بہکانے سے کیا
یوں تمہیں مل جائے گا اپنوں کو تڑپانے سے کیا
لاکھ سمجھاؤ مگر ہوتا ہے سمجھانے سے کیا
ہوش کی باتیں کرو اُلجھو گے دیوانے سے کیا
آپ کی باتیں سُنیں واعظ !مگر مانیں نہیں
چوٹ کھاتا ، آپ جیسے جانے پہچانے سے کیا
رقص کے عالم میں ہو جیسے یہ سارا میکدہ
آنکھ ساقی نے ملا رکھی ہے  پیمانے سے کیا
خیر ،  ہم نے مان لی جو بات بھی تم نے کہی
تم کہو ، تم کو ملا جھوٹی قسم کھانے سے کیا
سامنے جب آگئے کیسی حیا ، کیسا حجاب
فائدہ اب منہ چھپانے اور شرمانے سے کیا
دیکھ زاہد ! بادۂ سر جوش کے چھینٹے نہ ہوں
تیرے دامن پر ہیں یہ تسبیح کے ” دانے سے“ کیا
ترکِ الفت اور پھر الفت بھی اس بے مثل کی
میں بہک جاؤں گا واعظ ! تیرے بہکانے سے کیا
آگ میں اپنی جلا کر خاک کر ڈالا اُسے
شمع ! آخر دشمنی  ایسی بھی  پروانے سے کیا
چارہ سازو ! کیوں دوا کرتے ہو ، مرجانے بھی دو
بزم ہوجائے کی سُونی میرے اُٹھ جانے سے کیا
مے کشی لازم نہیں ہے بزمِ ساقی میں نصیرؔ
کام جب آنکھوں سے چل جائے تو  پیمانے سے کیا
                      پیر نصیر الدین نصیرؔ

2016-04-01

Sar e sehra musafir ko sitara yad rehta hai

سرِ صحرا مسافر کو ستارہ  یاد رہتا ہے

سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے
تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جاتی ہے
ہمیں تو جس نے بھی ہنس کر پکارا یاد رہتا ہے
محبت اور نفرت اور تلخی اور شیرینی
کس نے کس طرح کا پھول مارا یاد رہتا ہے
محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لینا
کسے اس بحر میں جا کر کنارا یاد رہتا ہے
بہت لہروں کو پکڑا ڈوبنے والے کے ہاتھوں نے
یہی بس ایک دریا کا نظارہ یاد رہتا ہے
صدائیں ایک ہی یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
ذرا سا مختلف جس نے پکارا یاد رہتا ہے
                     عدؔیم ہاشمی

2016-03-24

Ek baar kaho tum meri ho

اک بار کہو تم میری ہو

اک بار کہو تم میری ہو
ہم گھوم چکے بستی بن میں
اک آس کا  پھانس لئے من میں
کوئی ساجن ہو ، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو ، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
جب چندا روپ لٹاتا ہو
جب سورج دھوپ نہاتا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہو
کیوں گوری کا دل میلا ہو
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھروکے میں
کب دید سے دل کو سیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
              ابنِ انشاء

2016-03-11

Main ne is tor se chaha tujhe aksar janan

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں!
            
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں!
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اُترے
جیسے خوشبو کو ہوا، رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا  مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کمان ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ پا  مانگتے ہیں
میرا ہر خواب میرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تیری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا  اپنا!
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید  کا موسم کبھی دھندلا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانے کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لیے
توڑ ڈالی ہیں  ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ تیرے حسن کی گلنار فضا
میری  غزلوں کی قطاروں سے مہکتی جائے
میں نے چاہا کہ میرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں میں تکلم تیرا
رقص کرتا رہے، بھرتا رہے، خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تکلم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تو تھی لیکن تو بھی
چارۂ زخمِ غمِ دیدۂ تر کر نہ سکی
تجھ کو معلوم ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں!
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تیری دید کا منظر جاناں!
مجھ سے مانگے گا تیرے عہدِ محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں!
یوں میرے دل کے برابر تیرے غم آیا ہے
جیسے  شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں!
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں!!!!
              محسؔن نقوی

2016-03-10

Intehay kar-Fiaz Ahmed Faiz

انتہائے کار  (دستِ صبا۔فیض احمد فیض)


پندار کے خوگر کو
ناکام بھی دیکھو گے
آغاز سے واقف ہو
انجام بھی دیکھو کے

رنگینئ دنیا سے
مایوس سا ہو جانا
دکھتا ہوا دل لے کر
تنہائی میں کھو جانا

ترسی ہوئی نظروں کو
حسرت سے جھکا لینا
فریاد کے ٹکڑوں کو
آہوں میں چھپا لینا

راتوں کی خموشی میں
چھپ کر کبھی رو لینا
مجبور جوانی کے
ملبوس کو دھو لینا

جذبات کی وسعت کو
سجدوں سے بسا لینا
بھولی ہوئی یادوں کو
سینے سے لگا لینا



Khuda woh waqt na laye

خدا وہ وقت نہ لائے۔ (دستِ صبا- فیض احمد فیض)


خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہوجائے
تری مسرتِ پیہم تمام ہوجائے
تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے
غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا
ہجومِ یاس سے بے تاب ہو کے رہ جائے
وفورِ درد سے سیماب ہو کے رہ جائے
ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے
غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے
تری نگاہ کسی غم گسار کو ترسے
خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے
کوئی جبیں نہ ترے سنگِ آستاں پہ جھکے
کہ جنسِ عجز و عقیدت سے تجھ کو شاد کرے
فریبِ وعدہ فردا پہ اعتماد کرے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے
وہ دل کہ تیرے لیے بےقرار اب بھی ہے
وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے
             


2016-03-09

Kaash main tere haseen haath ka kangan hota

       کنگن

 کاش میں تیرے حسیں ہاتھوں کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بے تابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں
تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا
جب کبھی موڈ میں آکر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا
رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی
میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زلفوں کو ترے گال کو چوما کرتا
جب بھی تو بندِ قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتا
مجھ کو بےتاب سا رکھتا تری چاہت کا نشہ
میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا
میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا
کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا!
                      وصی شاہ




2016-03-06

Yad- Dasht e tanhai main ay jan e jahan larzan hain

Faiz Ahmed Faiz

       یاد   (دستِ صبا- فیض احمد فیض)

دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں ، لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے ترے ہونٹوں کے سراب
دشتِ تنہائی میں، دُوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں، ترے پہلو کے سمن اور گلاب

اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی   خوشبو   میں   سُلگتی   ہوئی   مدھم   مدھم
دو   افق   پار    ،   چمکتی   ہوئی   قطرہ   قطرہ
گر   رہی   ہے    تری   دلدار   نظر   کی   شبنم

اس قدر پیار سے ، اے جانِ جہاں ، رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد مے ہات
یوں گماں ہوتا ہے ، گرچہ ہے ابھی صبحِ فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن ، آ بھی گئی وصل کی رات


2016-02-07

Khawab marte nahi




خواب مرتے نہیں
خواب مرتے نہیں
خواب دل ہیں  نہ آنکھیں نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہُوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے یہ بھی مر جائیں گے
خواب مرتے نہیں
خواب تو روشنی ہیں نوا ہیں ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رُکتے نہیں
ظلم کے دوزخوں سے بھی پُھکتے نہیں
روشنی اور نوا  اور ہوا کے عَلم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نور ہیں
خواب سقراط ہیں
خواب منصور ہیں
احمد فرازؔ


2016-01-16

Agar muhabbat yahi hay janan

Unknown Poet
اگر محبت یہی ہے جاناں!!!!

لباس تن سے اتار دینا
کسی کو بانہوں کے ہار دینا
پھر اسکے جذبوں کو مار دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں!
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

گناہ کرنے کا سوچ لینا
حسین پریاں دبوچ لینا
پھر ان کی آنکھیں ہی نوچ لینا
اگر محبت یہی ہے جاناں!
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

کسی کو لفظوں کے جال دینا
کسی کو جذبوں کی ڈھال دینا
پھر اس کی عزت اچھال دینا
اگر محبت یہی ہے جاناں!
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

اندھیر نگری میں چلتے جانا
حسین کلیاں مسلتے جانا
اور اپنی فطرت پہ ہنستے جانا
اگر محبت یہی ہے جاناں!
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

سجا رہا ہے ہر اک  دیوانہ 
خیالِ حسن و جمالِ جاناں
خیال کیا ہے ہوس کا تانا
اگر محبت یہی ہے جاناں!
تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے

Rait ke butt na bana ay mere ache fankar

ریت کے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار

ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں 
میں تیرے سامنے انبار لگادوں لیکن
کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا
سُرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا
یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر
جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے

کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی
جس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے
اک وہ پتھر ہے جسے کہتے ہیں تہذیبِ سفید
اس کے مر مر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے
ایک انصاب کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو  ہو ہاتھ آتا ہے

جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
جتنے افکار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا  بھی پتھر
میرا الہام تیرا ذہنِ رسا بھی پتھر
اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تیرےمیری زباں پتھر ہے

ریت کے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
                  احمد ندیم قاسمی