Showing posts with label Adeem Hashmi. Show all posts
Showing posts with label Adeem Hashmi. Show all posts

2016-04-01

Sar e sehra musafir ko sitara yad rehta hai

سرِ صحرا مسافر کو ستارہ  یاد رہتا ہے

سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے
تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جاتی ہے
ہمیں تو جس نے بھی ہنس کر پکارا یاد رہتا ہے
محبت اور نفرت اور تلخی اور شیرینی
کس نے کس طرح کا پھول مارا یاد رہتا ہے
محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لینا
کسے اس بحر میں جا کر کنارا یاد رہتا ہے
بہت لہروں کو پکڑا ڈوبنے والے کے ہاتھوں نے
یہی بس ایک دریا کا نظارہ یاد رہتا ہے
صدائیں ایک ہی یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
ذرا سا مختلف جس نے پکارا یاد رہتا ہے
                     عدؔیم ہاشمی

Us ne kaha ke hum bhi kharidar hogaye

اس نے کہا کہ ہم بھی خریدار ہوگئے

اس نے کہا کہ ہم بھی خریدار ہوگئے
بکنے کو سارے لوگ ہی تیار ہو گئے
اس نے کہا کہ ایک وفادار چاہیے
سارے جہاں کے لوگ وفادار ہوگئے
اس نے کہا کہ کوئی گنہگار ہے یہاں
جو پارسا تھے وہ بھی گنہگار ہوگئے
اس نے کہا کہ عاجز و مسکین ہے کوئی
سب لوگ گردِ کوچہ و بازار ہوگئے
اس نے کہا کہ کاش کوئی جنگجو ملے
آپس میں یار  برسرِ پیکار ہوگئے
اس نے کہا عدؔیم میرا ہاتھ تھامنا
چاروں طرف سے ہاتھ نمودار ہوگئے
                           عدؔیم ہاشمی

2016-03-14

Taalaq apni jaga tujh se barqarar bhi hai

تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے

تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے
مگریہ کیا کہ ترے قرب سے فرار بھی ہے
کرید اور زمیں موسموں لے متلاشی !
یہیں کہیں مری کھوئی ہوئی بہار بھی ہے
یہی نہ ہو تری منزل ، ذرا ٹھہر اے دل
وہی مکان ہے ،  دیوں کی وہی قطار بھی ہے
یونہی تو روح نہیں توڑتی حصارِ بدن
ضرور اپنا کوئی بادلوں کے پار بھی ہے
میں پتھروں سے ہی سر کو پٹخ کے لوٹ آیا
چٹان کہتی رہی مجھ میں شاہکار بھی ہے
یہ کیا کہ روک کے بیٹھا ہوا ہوں سیلِ ہوس
مچان پر بھی ہوں اور سامنے شکار بھی ہے
چھپا ہوا بھی ہوں جینے کی آرزو لے کر
پناہ گاہ مری شیر کی کچھار بھی ہے
         عدیم ہاشمی

2016-03-12

Kat hi gai judai bhi kab yun hua ke mar gaye

کٹ ہی گئی جدائی بھی، کب یوں ہوا کہ مر گئے
                
کٹ ہی گئی جدائی بھی، کب یوں ہوا کہ مر گئے
تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے
تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے
تو نے کہا تو جی  اُٹھے تو نے کہا تو مر گئے
وقت ہی کچھ جدائی کا اتنا طویل ہو گیا
دل میں تیرےفراق کے جتنے تھے زخم بھر گئے
ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیاس کا
صحرا  اُمڈ اُمڈ پڑے دریا بپھر بپھر گئے
وہ بھی غبارِ خاک تھا ہم بھی غبارِ خاک تھے
وہ بھی کہیں بکھر گیا ہم بھی کہیں بکھر گئے
راہوں میں ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیں
توبھی نہ اپنے گھر گیا ہم بھی نہ اپنے گھر گئے
کوئی کنارِ آبِ جو  بیٹھا ہوا ہے سرنگوں
کشتی کدھر چلی گئی جانے کدھر بھنور گئے
آج بھی انتظار کا وقت حنوط ہوگیا
ایسے لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے
باشِ وصل وہ ہوئی سارا غبار دھل گیا
وہ بھی نکھر نکھر گیا ہم بھی نکھر نکھر گئے
آبِ محیطِ عشق کا بحر عجیب بحر ہے
تیرے تو غرق ہوگئے ڈوبے تو پار اُتر گئے
اتنے قریب ہوگئے، اتنے رقیب ہوگئے
وہ بھی عدیم ڈر گیا ، ہم بھی عدیم ڈر گئے
               عدیمؔ ہاشمی

2016-01-16

Taalaq torta hoon to mukammal tor deta hoon

تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں

تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں
میں جس کو چھوڑ دیتا ہوں مکمل چھوڑ دیتا ہوں
محبت ہو کہ نفرت ہو بھرا رہتا ہوں شدت سے
جدھر سے آئے یہ دریا وہیں کو موڑ دیتا ہوں 
یقیں رکھتا نہیں ہوں میں کسی کچے تعلق پر
جو دھاگہ ٹوٹنے والا ہو اس کو توڑ دیتا ہوں
میرے دیکھے ہوئے سپنے کہیں لہریں نہ لے جائیں
گھروندے ریت کے تعمیر کرکے چھوڑ دیتا ہوں
عدیمؔ اب تک وہی بچپن وہی تخریب کاری ہے
قفس کو توڑ دیتا ہوں پرندے چھوڑ دیتا ہوں
                        عدیمؔ ہاشمی