Showing posts with label Amjad Islam Amjad. Show all posts
Showing posts with label Amjad Islam Amjad. Show all posts

2016-04-13

Khud apne liye baith ke sochenge kisi din

خود اپنے  لیے بیٹھ کے سوچیں گے کسی دن

خود اپنے لیے بیٹھ کے سوچیں گے کسی دن
یوں ہے کہ تجھے بھول کے دیکھیں گے کسی دن
بھٹکے ہوئے پھرتے ہیں کئی لفظ جو دل میں
دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن
ہل جائیں گے اک بار تو عرشوں کے در و بام
یہ خاک نشیں لوگ جو بولیں گے کسی دن
آپس میں کسی بات کا ملتا ہی نہیں وقت
ہر بار یہ کہتے ہیں کہ ” بیٹھیں گے کسی دن! “
اے جان تری یاد کے بے نام پرندے
شاخوں پہ مرے درد کی اُتریں گے کسی دن
جاتی ہے کسی جھیل کی گہرائی کہاں تک
آنکھوں میں تری ڈوب کے دیکھیں گے کسی دن
خوشبو سے بھری شام میں جگنو کے قلم سے
اک نظم ترے واسطے لکھیں گے کسی دن
سوئیں گے تری آنکھ کی خلوت میں کسی رات
سائے میں تری زُلف کے جاگیں گے کسی دن
صحرائے خرابی کی اسی گردِ سفر سے
پھولوں سے بھرے راستے نکلیں گے کسی دن
خوشبو کی طرح مثلِ صبا خواب نما سے
گلیوں سے ترے شہر کی گزریں گے کسی دن
امؔجد ہے یہی اب کہ کفن باندھ کے سر پر
اُس شہرِ ستم گار میں جائیں گے کسی دن 
                      امجد اسلام امجؔد

Zahir shumaal mein koi tara hua to hai

ظاھر شمال میں کوئی تارا ہوا تو ہے

ظاھر شمال میں کوئی تارا ہوا تو ہے
اِذنِ سفر کا ایک اشارا ہوا تو ہے
کیا ہے جو رکھ دی آخری داؤ میں نقدِ جاں
ویسے بھی ہم نے کھیل یہ ہارا ہوا تو ہے
وہ جان اس کو خیر خبر ہے بھی  یا نہیں
دل ہم نے اس کے نام پہ وارا ہوا تو ہے
پاؤں میں نارسائی کا اِک آبلہ سہی
اِس دشتِ غم میں کوئی ہمارا ہوا تو ہے
اُس بے وفا سے ہم کو یہ نسبت بھی کم نہیں
کچھ وقت ہم نے ساتھ گزارا ہوا تو ہے
اپنی طرف اُٹھے نہ اُٹھے اُس کی چشمِ خوش
امجدؔ کسی کے درد کا چارا ہوا تو ہے
                   امجد اسلام امجدؔ

2016-03-30

Dunya ka kuch bura bhi tamasha nahin raha

دنیا کا کچھ بُرا بھی تماشہ نہیں رہا

دنیا کا کچھ بُرا بھی تماشہ نہیں رہا
دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا
تم سے ملے بھی ہم تو جُدائی کے موڑ پر
کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا
کہتے تھے ایک پل نہ جئیں گے تیرے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا
کاٹے ہیں اِس طرح  سے تیرے بعد روز و شب
میں سانس لے رہا تھا پر زندہ نہیں رہا
آنکھیں بھی دیکھ دیکھ کے خواب آگئی ہیں تنگ
دل میں بھی اب وہ شوق وہ لپکا نہیں رہا
کیسے ملائیں آنکھ کسی آئینے سے ہم
اؔمجد ہمارے پاس تو چہرہ نہیں رہا
              امجد اسلام اؔمجد

Kehne ko mera us se koi wasta nahin

کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں

کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں
اؔمجد مگر وہ شخص مجھے بھولتا نہیں
ڈرتا ہوں آنکھ کھولوں تو منظر بدل نہ جائے
میں جاگ تو رہا ہوں مگرجاگتا نہیں
آشفتگی سے اُس کی اُسے بے وفا نہ جان
عادت کی بات اور ہے دل کا بُرا نہیں
تنہا اُداس چاند کو سمجھو نہ بے خبر
ہر بات سن رہا ہے مگر بولتا نہیں
خاموش رتجگوں کا دھواں تھا چہار سو
نکلا کب آفتاب مجھے تو پتہ نہیں
اؔمجد وہ آنکھیں جھیل سی گہری تو ہیں مگر
اُن میں کوئی بھی عکس میرے نام کا نہیں
                     امجد اسلام امؔجد

2016-03-25

Ankhon ka rang bat ka lehja badal gaya

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا

آنکھوں کا رنگ ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا
کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش
پھر یوں ہوا کہ خود مرا چہرا بدل گیا
جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ  سکے
تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا
قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی
اُس نے چھڑایا ہاتھ تو صحرا بدل گیا
کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی
جاتے ہی ایک شخص کے کیا کیا بدل گیا
اک سر خوشی کی موج نے کیسا کیا کمال
وہ بے نیاز سارے کا سارا بدل گیا
اٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیاں
پردہ اُٹھا تو سارا تماشا بدل گیا
حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رہے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا
کہنے کو ایک صحن میں دیوار ہی بنی
گھر کی فضا ، مکان کا نقشہ بدل گیا
شاید وفا کے کھیل سے اُکتا گیا تھا وہ
منزل کے پاس آکے جو رستہ بدل گیا
قائم کسی بھی حال پہ دنیا نہیں رہی
تعبیر کھو گئی ، کبھی سپنا بدل گیا
منظر کا رنگ اصل میں سایا تھا رنگ کا
جس نے اُسے جدھر سے بھی دیکھا بدل گیا
اندر کے موسموں کی خبر اُس کی ہوگئی
اُس نو بہارِ ناز کا چہرا بدل گیا
آنکھوں میں جتنے اشک تھے جگنو سے بن گئے
وہ مسکرایا اور مری دنیا بدل گئی
اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈھونڈتے ہیں لوگ
امجدؔ یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا
           امجد اسلام امجدؔ









2016-03-19

Hum to aseer e khawab thay tabeer jo bhi thi

ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی

ہم تو اسیرِ خواب تھے تعبیر جو بھی تھی
دیوار پر لکھی ہوئی تحریر جو بھی تھی
ہر فرد لاجواب تھا ، ہر نقش بے مثال
مل جل کے اپنی قوم کی تصویر جو بھی تھی
جو سامنے ہے، سب ہے یہ، اپنے کئے کا پھل
تقدیر کی تو چھوڑیئے، تقدیر جو بھی تھی
آیا اور اک نگاہ میں برباد کر گیا
ہم اہلِ انتظار کی جاگیر جو بھی تھی
قدریں جو اپنا مان تھیں، نیلام ہوگئیں
ملبے کے مول بک گئی، تعمیر جو بھی تھی
طالب ہیں تیرے رحم کے ہم عدل کے نہیں
جیسا بھی اپنا جرم تھا، تقصیر جو بھی تھی
ہاتھوں پہ کوئی زخم نہ پیروں پہ کچھ نشاں
سوچوں میں تھی پڑی ہوئی، زنجیر جو بھی تھی
یہ اور بات چشم نہ ہو معنی آشنا
عبرت کا ایک درس تھی، تحریر جو بھی تھی
امجدؔ ہماری بات وہ سنتا تو ایک بار
آنکھوں سے اس کو چومتے، تعزیر جو  بھی تھی
                       امجد اسلام امجدؔ

Koi bhi lamha kabhi lot kar nahin aaya

کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا

کوئی بھی لمحہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا
وفا کے دشت میں رستہ نہیں ملا کوئی
سوائے گردِ سفر ہم سفر نہیں آیا
پلٹ کے آنے لگے شام کے پرندے بھی
ہمارا صبح کا بھولا مگر نہیں آیا
کسی چراغ نے پوچھی نہیں خبر میری
کوئی بھی پھول مرے نام پر نہیں آیا
چلو کہ کوچۂ قاتل سے ہم ہی ہو آئیں
کہ نخلِ دار پہ کب سے ثمر نہیں آیا
خدا کے خوف سے دل جو لرزتے رہتے ہیں
انھیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا
کدھر کو جاتے ہیں رستے، یہ راز کیسے کھلے
جہاں میں کوئی بھی بارِ دگر نہیں آیا
یہ کیسی بات کہی شام کے ستارے نے
کہ چین دل کو مرے رات بھرنہیں آیا
ہمیں یقین ہے امجدؔ نہیں وہ وعدہ خلاف
یہ عمر کیسے کٹے گی ، اگر نہیں آیا
                امجد اسلام اؔمجد

2016-03-12

Hisab e umer ka atna sa goshwara hai

حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے

حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو  سب خسارا ہے
ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے
نہ جانے ہم ہیں دوبارا کہ  یہ دوبارا ہے
عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دنیا کے
کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے
نجانے کب تھا  کہاں تھا  مگر یہ لگتا ہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے
یہ دو کنارے تو دریا ہے ہوگئے ہم تم
مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے
                امجد اسلام امجدؔ

2016-03-05

Mumkin nahin tha jo wo irada nahim kiya

ممکن نہیں تھا جو وہ ارادہ نہیں کیا

ممکن نہیں تھا جو وہ ارادہ نہیں کیا
ہم نے تُجھے بھلانے کا وعدہ نہیں کیا
لہجے میں اُس کے رنگ تھا کم اعتبار کا
ہم نے بھی اعتبار زیادہ نہیں کیا
تھے مصلحت کی راہ میں سائے بہت گھنے
پر دل نے اختیار وہ جادہ نہیں کیا
جھولی میں ہم نے بھر لیے فاقے سمیٹ کر
دامن کسی کے آگے کشادہ نہیں کیا
تھے، خاکِ پائے اہلِ محبت، مگر کبھی
سجدہِ بہ پیشِ تاج و لبادہ نہیں کیا
حرمت شناس ِ درد تھے، سو ہم نے عمر بھر
امجدؔ حدیثِ جاں کا اعادہ نہیں کیا
   امجد اسلام امجدؔ

Kahin bekinar se ratjage kahin zarnigar se khawab de

کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زرنگار سے خواب دے!

کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زرنگار سے خواب دے!
ترا کیا اُصول ہے زندگی؟ مجھے کون اس کا حساب دے
جو بچھا سکوں ترے واسطے ،   جو سجا سکیں  ترے  راستے
مری دسترس میں ستارے رکھ، مری مُٹھیوں کو گلاب دے
یہ جو خواہشوں کا پرند ہے، اسے موسموں سے غرض نہیں
یہ اُڑے گا اپنی ہی موج میں، اسے آب دے کہ سراب دے
تجھے چُھو لیا تو بھڑک اُٹھے مرے جسم و جاں میں چراغ سے
اِسی آگ میں مجھے راکھ کر ،   اسی شعلگی کو شباب دے
کبھی یوں بھی ہو ترے رُوبرو ، میں نظر مِلا کے یہ کہہ سکوں
"مری حسرتوں کو شمار کر، مری خواہشوں کا حساب دے !"
تری اک نگاہ کے فیض سے ، مری کشتِ حرف چمک اُٹھے
مرا لفظ لفظ ہو کہکشاں ،  مجھے ایک ایسی کتاب دے
                امجد اسلام امجدؔ