Showing posts with label Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi. Show all posts
Showing posts with label Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi. Show all posts

2016-03-21

Ajab apna haal hota jo wisaal e yaar hota

عجب اپنا حال ہوتا جو وصالِ یار ہوتا

عجب اپنا حال ہوتا جو وصالِ یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہدو تمہیں اعتبار ہوتا
یہ مزا تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا
نہ مزا ہے دشمنی میں نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا ،  کوئی  یار یار ہوتا
ترے وعدے پہ ستمگر ابھی اور صبر کرتے
اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا
تمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داؔغ کا دل
یہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا
             نواب مرزا خان داؔغ دہلوی
                     

Khatir se ya lihaz se main man to gaya

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں
الٹی شکائتیں ہوئیں احسان تو گیا
ڈرتا ہوں دیکھ کر دلِ بے آرزو کو میں
سنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا
افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں
لیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا
گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکر
مجکو  وہ میرے نام سے پہچان تو گیا
بزمِ عدو میں صورتِ پروانہ دل مرا
گو رشک سے جلا ترے قربان تو گیا
ہوش و حواس و تاب و تواں داؔغ جا چکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
          نواب مرزا خان داؔغ دہلوی

Mere qabu mein na pehron dil e nashad aaya

مرے قابو میں نہ پہروں دلِ ناشاد آیا

مرے قابو میں نہ پہروں دلِ ناشاد آیا
وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا
کوئی بھولا ہوا اندازِ ستم یاد آیا
کہ تبسم تجھے ظالم دمِ بیداد آیا
چین کرتے ہیں وہاں رنج اُٹھانے والے
کام عقبیٰ میں ہمارا دلِ ناشاد  آیا
دی موذّن نے شبِ وصل اذاں پچھلی رات
ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا
لیجئے سنیئے اب افسانۂ فرقت مجھ سے
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داؔغ نہیں
ہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا
               نواب مرزا خان داؔغ دہلوی