Showing posts with label Ahmed Nadeem Qasmi. Show all posts
Showing posts with label Ahmed Nadeem Qasmi. Show all posts

2016-04-05

Alam e hijar mein soya hoon na sona chahon

عالمِ ہجر میں سویا ہوں ، نہ سونا چاہوں
 
عالمِ ہجر میں سویا ہوں ، نہ سونا چاہوں
میں تری ذات سے مایوس نہ ہونا چاہوں
گل ترے دل میں کھلیں اور مہک جاؤں میں
اسی رشتے میں ہر انساں کو پرونا چاہوں
کیوں گوارا ہو  ترے درد میں بھی شرکتِ غیر
تو جو یاد آئے تو تنہائی میں رونا چاہوں
جستجو کے لیے رہتا ہے بہانہ درکار
کھو کے پایا جسے ، پاکر اسے کھونا چاہوں
چھا رہا ہے مرے اندر غمِ انجام کا ابر
خوش بھی ہوتا ہوں تو آنکھوں کو بھگونا چاہوں
میں ہوں اک طرفہ بھکاری ، کوئی میری بھی سنو
رات کے فرش پہ کرنوں کا بچھونا چاہوں
یوں تو اک پھول کی پتی سے بہل جاتا ہوں
میں مچل جاؤں تو صحرا کا کھلونا چاہوں
میرا منصب نہیں پیغمبرِ فن بننے کا
میں تو احساس کو لفظوں میں سمونا چاہوں
اس زمانے کا عجب طرزِ تصوف ہے ندؔیم
کہ میں قطرے میں سمندر کو ڈبونا چاہوں
                احمد ندؔیم قاسمی

Ye jo ek umer ki tanhai hai

یہ جو اک عُمر کی تنہائی ہے

یہ جو  اک عُمر کی تنہائی ہے
 میرا  معیارِ  توانائی  ہے
ہر طرف ایک ہی صورت کا ہجوم
یہ عجب انجمن  آرائی ہے
وہی اک چاند ، وہی ایک زمیں
تیری میری یہی یکجائی  ہے
شب کو جلتا ہے وہی مثلِ چراغ
دن کو جو لالۂ صحرائی ہے
عشق پتھر سے نمی مانگتا ہے
عقل کہتی ہے ، یہ دانائی ہے
بول سکتے ہیں ، مگر سب چُپ ہیں
یہ بھی اک طرح کی گویائی ہے
نوکِ خنجر سے سلے زخم ندؔیم
یہ نیا   طرزِ مسیحائی   ہے

    احمد ندؔیم قاسمی

2016-03-30

Mujh se kafir ko tere ishq ne yun sharmaya

مجھ سے کافر کو تیرے عشق نے یوں شرمایا

مجھ سے کافر کو تیرے عشق نے یوں شرمایا
دل تجھے دیکھ کے دھڑکا تو خدا یاد آیا
میرے دل پہ تو ہے اب تک تیرے غم کا سایہ
لوگ کہتے ہیں نیا دور نئے دُکھ لایا
میرا معیارِ وفا ہی میری مجبوری ہے
رُخ بدل کر بھی تجھے اپنے مقابل پایا
چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا
کس نے انساں کو تبسم کے لئے ترسایا
نذر کرتا رہا میں پھول سے جذبات اسے
جس نے پتھر کے کھلونوں سے مجھے بہلایا
لوگ ہنستے ہیں تو اس سوچ میں کھو جاتا ہوں
موجِ سیلاب نے پھر کس کا گھروندا ڈھایا
اس کے اندر کوئی فنکار چھپا بیٹھا ہے
جانتے بوجھتے جس شخص نے دھوکا کھایا
                   احمد ندیمؔ قاسمی

2016-03-22

Kon kehta hai ki maut aayi to mar jaon ga

کون کہتا ہےکہ موت  آئی تو مر جاؤں گا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاؤں گا
ترا در چھوڑ کے میں اور کدہر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
ترے پہلو سے جو اُٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف اِک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایۂ   ابر   کی    مانند   گزر   جاؤں   گا
ترا   پیمانِ    وفا       راہ   کی   دیوار   بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مرجاؤں گا
چارہ سازوں سے الگ ہے میرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور  جاؤں گا
اب تو خورشید کو ڈوبے ہوئے صدیاں گزریں
اب اسے ڈھونڈنے   میں تا بسحر جاؤں گا
زندگی شمع   کی   مانند   جلاتا   ہوں   ندیمؔ
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح   تو   کر جاؤں گا
                           احمد ندیؔم قاسمی      

Toor se koi ilaqa hai na rabt aiman se


طور سے کوئی علاقہ ہے نہ ربط ایمن سے

طور سے کوئی علاقہ ہے نہ ربط ایمن سے
روشنی میں نے سمیٹی ہے  کسی چتون  سے
بجلیوں کو تو  برسنا تھا سو برسیں شب بھر
ورنہ خرمن تھے بہت دور مرے مسکن سے
میرا سرمایہ ہیں جذبات و خیالات مرے
سر جو کٹتا ہے کٹے ، سر نہ جدا ہو تن سے
مجھ کو ان رابطوں پہ ٹوٹ کے پیار آتا ہے
گردِ راہ  لپٹی چلی آئی مرے دامن سے
شعلۂ حسن دبانے سے نہیں دب سکتا
کہ شعائیں تو چھلک پڑتی  رہیں چلمن سے
ایسا دیوانہ کیا ہے مجھے تنہائی نے
کہ رفاقت کی توقع ہے مجھے دشمن سے
لٹ رہا ہوں ، مگر اتنی تو تسلی ہے ندیمؔ
شہر کا راستہ پوچھوں گا  اسی رہزن سے
            احمد ندیمؔ قاسمی

2016-03-01

Ishaq bedam hai to firdaus e wafa mat dhondo

عشق بے دم ہے تو فردوسِ وفا مت ڈھونڈو

عشق بے دم ہے تو  فردوسِ وفا مت ڈھونڈو
ریت پھانکی ہے تو گندم کا مزا مت  ڈھونڈو
سر سے پا تک ہوں جب اُتری ہوئی سرسوں کی رُتیں
پھر کسی  ہاتھ  پہ  نیرنگِ حنا  مت  ڈھونڈو
دھجیاں  اپنی  حمیّت کی،  چھپاؤ گے  کہاں
سر سے  نوچی ہوئی،   بیٹی  کی  رِدا  مت  ڈھونڈو
جُرم کے بوجھ سے دبتا  ہے تو روتا ہے ضمیر
ہر طرف سے اُمڈتی ہے صدا، مت ڈھونڈو
حضرتِ خضر کو  بھی زحمتِ  خیرات  نہ  دو
تن کے جینا ہے  تو  پھر  آبِ بقا  مت  ڈھونڈو
اپنے  ایمان  کو  آوارہ  نہ  ہونے  دو کبھی
ایک مل جائے تو ایک اور خُدا مت ڈھونڈو
اس سے پوچھو ،  سفرِ حبسِ  شبی  کیسے  کٹا
دامنِ صبح  میں  گل ہائے  صبا  مت  ڈھونڈو
افق ِ حسن سے  اک پل بھی   نگاہیں  نہ  ہٹیں
عشق کرنا ہے تو کچھ اس کے سوا مت ڈھونڈو
تم جب انساں ہو، تو انساں کی جبلت میں ندیمؔ
خیر کے  پھول  چُنو  اور   خطا  مت  ڈھونڈو
احمد ندیمؔ قاسمی

Najane khal o khad kyun chhin gae hain khush jamalon ke

نہ جانے خال و خد کیوں چھن  گئے ہیں خوش جمالوں کے

نہ جانے خال و خد کیوں چھن گئے ہیں خوش جمالوں کے
ہیولے  سے نظر آتے  ہیں     صحرا  میں   غزالوں  کے
اک ایسے دور میں تخلیقِ فن کی مجھ کو  سُو جھی ہے
اگر سوچوں تو پر کٹنے لگیں میرے خیالوں کے
زمیں کے در پہ دستک دوں تو شاید خاک بول اُٹھے
جواب آتے نہیں افلاک سے ، میرے سوالوں کے
یہ وقت ایسا ہے جب جذبے کا سکّہ چل نہیں سکتا
کہ دیوانے بھی طالب ہیں دلیلوں کے،  حوالوں کے
مجھے نابود ہوجانے سے روکا اس حقیقت نے
زوالوں کے کھنڈر پر قصر اُٹھتے ہیں کمالوں کے
ندیمؔ اب  اِک قصیدہ  اس گروہِ حُسن کاراں کا
فسانے تو بہت لکھے ہیں تو نے     گاؤں والوں کے
                   احمد ندیمؔ قاسمی

Hum kabhi ishaq ko wahshat nahi banne dete

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے

ہم کبھی عشق کو وحشت نہیں بننے دیتے
دل کی تہذیب کو تہمت نہیں بننے دیتے
لب ہی لب ہے تُو کبھی اور کبھی چشم ہی چشم
نقش تیرے ، تری صورت نہیں بننے دیتے
یہ ستارے جو  چمکتے  ہیں پسِ  ابرِ  سیہ
تیرے غم کو مری عادت نہیں بننے دیتے
تُو کبھی رات، کبھی دن، کبھی ظلمت، کبھی نور
تیرے جلوے تجھے وحدت نہیں بننے دیتے
اُن کی جنّت بھی کوئی دشتِ بلا ہی ہوگی
زندہ رہنے کو جو لذّت نہیں بننے  دیتے
ہاں مسّرت تو ہے برحق، مگر افکارِ حیات
کوئی  پیرایۂ  راحت نہیں  بننے  دیتے
فکرِ فن کے لئے  لازم مگر  اچھے  شاعر
اپنے فن کو کبھی حکمت نہیں بننے دیتے
وہ محبّت کا تعلق ہو کہ نفرت  کا  ندیمؔ
رابطے،  زیست کو خلوت نہیں بننے دیتے
               احمد ندیمؔ قاسمی

2016-02-23

Ajab suroor mila hai mujhe dua krke

عجب سرور ملا ہے مجھے دعا کرکے

عجب سرور ملا ہے مجھے دعا کرکے
کہ مسکرایا خد ا بھی، ستارہ وا کرکے
گداگری بھی اک اسلوبِ فن ہے،جب میں نے
اسی کو مانگ لیا، اس سے التجا کرکے
شبِ فراق کے ہر جبر کو شکست ہوئی
کہ میں نے صبح تو کرلی، خدا خداکرکے
یہ سوچ کر کہ کبھی تو جواب آئے گا
میں اس کے در پہ کھڑا  رہ گیا صدا کرکے
یہ چارہ گر ہیں کہ اک اجتماعِ بدذوقاں
وہ مجھ کو دیکھیں تری ذات سے جدا کرکے
خدا بھی ان کو نہ بخشے تو لطف آجائے
جو اپنے آپ سے شرمندہ ہوں خطا کرکے
خود اپنی ذات پہ تو اعتماد پختہ ہوا
ندؔیم  یوں تو  مجھے کیا ملا وفا کرکے
        احمد ندیمؔ قاسمی

2016-01-16

Rait ke butt na bana ay mere ache fankar

ریت کے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار

ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں 
میں تیرے سامنے انبار لگادوں لیکن
کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا
سُرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا
یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر
جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے

کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی
جس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے
اک وہ پتھر ہے جسے کہتے ہیں تہذیبِ سفید
اس کے مر مر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے
ایک انصاب کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو  ہو ہاتھ آتا ہے

جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
جتنے افکار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا  بھی پتھر
میرا الہام تیرا ذہنِ رسا بھی پتھر
اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں تیرےمیری زباں پتھر ہے

ریت کے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
                  احمد ندیم قاسمی