Showing posts with label Khawaja Haidar Ali Aatish. Show all posts
Showing posts with label Khawaja Haidar Ali Aatish. Show all posts

2016-02-27

Ye aarzu thi tujhe gul ke ro ba ro karte

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبلِ   بے تاب  گفتگو کرتے
پیام بر نہ میسّر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
مری  طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتشؔ
برستی آگ ، جو باراں کی آرزو کرتے
             خواجہ حیدر علی آتشؔ

Soorat se us ki behtar soorat nahi he koi

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی

صورت سے اس کی بہتے صورت نہیں ہے کوئی
دیدارِ یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی
میں نے کہا " کبھی تو تشریف لاؤ " بولے
" معذور رکھیے، وقتِ فرصت نہیں ہے کوئی"
ہم کیا کہیں کسی سے کیا ہے طریق اپنا
مذہب نہیں ہے کوئی، ملت نہیں ہے کوئی
ہم شاعروں کا حلقہ ، حلقہ ہے عارفوں کا
نا آشنا ئے معنی صورت نہیں ہے کوئی
ما و شما ، کہ و مہ کرتا ہے ذکر تیرا
اس داستاں سے خالی صحبت نہیں ہے کوئی
شہرِبُتاں ہے آتش اللہ کو کرو یاد
کس کو پکارتے ہو حضرت نہیں ہے کوئی
       خواجہ حیدر علی آتشؔ

Kuch nazar aaya na phir jab tu nazar aaya mujhe

کچھ نظر آیا نہ پھر جب تُو نطر آیا مجھے

کچھ نظر آیا نہ پھر جب تُو نظر آیا مجھے
جس طرف دیکھا مقامِ ہُو نظر آیا مجھ
دیدۂ یعقوب سے دیکھا جو عالم کی طرف
یوسف اُس بازار میں ہر سو نظر آیا مجھے
خالِ مشکیں کا ترے جس رات افسانہ بنا
سو گیا تو خواب  میں ہندو نظر آیا مجھے
تو نے دکھلائی صنم برقع کی جالی سے جو آنکھ
دام میں صیّاد  کے آہو نظر آیا مجھے
وصل کی شب کردیا بے کاررعبِ حسن نے
دست و پا ہر ایک بے قابو نظر آیا مجھے
یاد کر اُس گل کو آتؔش مثلِ شبنم رودیا
پیرہن کوئی اگر خوشبو نظر آیا مجھے
           خواجہ حیدر علی آتؔش