Showing posts with label Ibn e Insha. Show all posts
Showing posts with label Ibn e Insha. Show all posts

2016-04-20

Dil kis ke tasawur mein jane raaton ko pareshan hota hai

دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہے

دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہے
یہ حسنِ طلب کی بات نہیں ہوتا ہے مری جاں ہوتا ہے
ہم تیری سکھائی منطق سے اپنے کو تو سمجھا لیتے ہیں
اک خار کھٹکتا رہتا ہے سینے میں جو پنہاں ہوتا ہے
پھر ان کی گلی میں پہنچے گا ، پھر سہو کا سجدہ کرلے گا
اس دل پہ بھروسہ کون کرے ہر روز مسلماں ہوتا ہے
وہ درد کہ اس نے چھین لیا ، وہ درد کہ اس کی بخشش تھا
تنہائی کی راتوں میں انشاؔ اب  بھی مرا مہماں ہوتا ہے
ابنِ انشاؔ

Aur to koi bas na chale ga hijar ke dard ke maron ka

اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا

اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا
صبح کا ہونا دوبھر کردیں  رستہ روک  ستاروں کا
جھوٹے سِکّوں میں بھی اٹھا دیتے ہیں یہ اکثر سچا مال
شکلیں دیکھ کے سودے کرنا کام ہے ان بنجاروں کا
اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چُپ ہی رہیں گے عاشق لوگ
تم سے تو اتنا ہوسکتا ہے پوچھو حال بچاروں کا
جس  جپسی کا ذکر ہے تم سے دل کو اسی کی کھوج رہی
یوں تو ہمارے شہر میں اکثر میلا لگا  نگاروں کا
ایک ذرا سی بات تھی جس کا چرچا پہنچا گلی  گلی
ہم  گمناموں نے پھر بھی احسان نہ مانا یاروں کا
درد کا کہنا چیخ ہی اُٹھو ، دل کا کہنا ، وضع نبھاؤ
سب کچھ سہنا چپ چپ رہنا کام ہے عزّت داروں کا
انشاؔ جی اب اجنبیوں میں چین سے باقی عمر کٹے
جن کی خاطر بستی چھوڑی نام نہ لو ان پیاروں کا
                                 ابنِ انشاؔ

2016-04-04

Insha ji utho ab kooch karo is shehr mein jee ko lagana kya

اِنشا جی اُٹھو اب کوچ کرو ، اس شہر میں جی کو  لگانا کیا

اِنشا جی اُٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب ، جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں ، دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے ، اس جھولی کا  پھیلانا کیا
شب بیتی ، چاند بھی ڈوب چلا ، زنجیر  پڑی دروازے پہ
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو ، سجنی سے کروگے بہانہ کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میاں سنجوک کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو ، شرمانا کیا گھبرانا کیا
اس روز جو اُن کو دیکھا ہے ، اک خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو اُن سے بات ہوئی ، وہ بات بھی تھی افسانہ کیا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ  دولت کیا وہ خزانہ کیا
اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے من ، اک شعلہ لال بھبھوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا ، یوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کر
دیوانوں کی سی نہ بات  کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
                          ابنِ انشا

2016-04-03

Hum raat boht roye boht aah o fughan ki

ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی

ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی
سر زانو پہ رکھے ہوئے کیا سوچ رہی ہو
کچھ بات سمجھتی ہو محبّت زدگاں کی
تم میری طرف دیکھ کے چُپ ہو سی گئی تھیں
وہ ساعتِ خوش وقتِ نشاطِ گزراں کی
اِک دن یہ سمجھتے تھے کہ پایانِ تمنّا
اک رات ہے مہتاب کے ایّامِ جواں کی
اب دیکھ یہ حالت ہے مگر جانِ تمنّا
ہم نالہ کشاں ، بے گنہاں ، غم زدگاں کی
اِس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو
کہتے ہو کبھی بات وہاں جا کے یہاں کی
برگشتہ ہوا ہم سے یہ مہتاب تو پیارو
بس بات سنی راہ چلا کاہکشاں کی
اللہ کرے مؔیر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں
غزلیں کہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی
تم چرخِ چہارم کے ستارے ہوئے لوگو
تاراج کرو زندگیاں اہلِ  جہاں کی
اچھا ہمیں بنتے ہوئے مٹتے ہوئے دیکھو
ہم موجِ گریزاں ہی سہی آبِ رواں کی
انشاؔ سے ملو اس سے نہ روکیں گے و لیکن
اس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی
مشہور ہے ہر بزم میں اِس شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام میاں کی
اے دوستو اے دوستو اے درد نصیبو!
گلیوں میں چلو سیر کریں شہرِ بُتاں کی
ہم جائیں کسی سمت کسی چوک  پہ ٹھہریں
کہیو نہ کوئی بات کسی سود و زیاں کی
اِنشاؔ کی غزل سُن لو پہ رنجور نہ ہونا
دیوانہ ہے دیوانے نے اِک بات بیاں کی
ہوتا ہے یہی عشق میں ہنجار سبھی کا
باتیں یہی دیکھی ہیں  محبّت زدگاں کی
                  ابنِ انشاؔ

Dil si sheez ke gahak honge do ya aik hazar ke beech

دل سی چیز کے گاہک  ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ

دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ
اِنؔشا جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ
پینا بلانا عین گنہ ہے ، جی کا لگانا عین ہوس
آپ کی باتیں سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ
اے سخیوں اے خوش نظرو یک گونہ کرم خیرات کرو
نعرہ زناں کچھ لوگ پھریں ہیں صبح سے شہرِ نگار ہے بیچ
خار و خس و خاشاک تو جانیں ، ایک تجھی کو خبر نہ ملے
اے گلِ خوبی ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ
منّتِ قاصد کون اٹھائے شکوۂ درباں کون کرے
نامۂ شوق غزل کی صورت چھپنے کو  دو اخبار کے بیچ
                           ابنِ انشا

2016-03-24

Ek baar kaho tum meri ho

اک بار کہو تم میری ہو

اک بار کہو تم میری ہو
ہم گھوم چکے بستی بن میں
اک آس کا  پھانس لئے من میں
کوئی ساجن ہو ، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو ، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
جب چندا روپ لٹاتا ہو
جب سورج دھوپ نہاتا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہو
کیوں گوری کا دل میلا ہو
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھروکے میں
کب دید سے دل کو سیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
              ابنِ انشاء