Showing posts with label Iftikhar Arif. Show all posts
Showing posts with label Iftikhar Arif. Show all posts

2016-02-24

Jaisa hoon waisa kyun hoon

جیسا ہوں ، ویسا کیوں ہوں،سمجھا سکتا تھا میں

جیسا ہوں ، ویسا کیوں ہوں، سمجھا سکتا تھا میں
تم  نے  پوچھا  تو  ہوتا ،  بتلا  سکتا  تھا میں
آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی ، ورنہ
آگے اور بہت آگے تک جا  سکتا تھا میں
کہیں کہیں سے کچھ مصرعے، ایک آدھ نظم، کچھ شعر
اس پونجی پر کتنا شور مچا  سکتا تھا میں
چھوٹی موٹی ایک لہر ہی تھی میرے اندر
ایک لہر سے کیا طوفان اُٹھا سکتا تھا میں
جیسے سب لکھتے ہیں غزلیں ، نظمیں ، گیت
ویسے لکھ لکھ کر انبار لگا سکتا تھا میں
            افتخار عارفؔ



Umeed o beem ke mehwer se hat ke dekhte hain

اُمید و بیم کے محور سے  ہٹ کے  دیکھتے ہیں

اُمید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں
بکھر چکے ہیں بہت باغ ودشت و دریا میں
اب اپنے حجرۂ جاں میں سمٹ کے دیکھتے ہیں
پھر اس کے بعد جو ہونا ہے ہورہے سرِدست
بساطِ   عافیتِ   جاں الٹ کے   دیکھتے ہیں
وہی ہے خواب جسے سب نے مل کے دیکھا تھا
اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں
سنا یہ ہے کہ سبک ہو چلی ہے قیمتِ حرف
سو ہم بھی اب قدوقامت سے گھٹ کے دیکھتے ہیں
تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں
         افتخار عارؔف