سلا رہا تھا نہ بیدار کرسکا تھا مجھے
سلا رہا تھا نہ بیدار کرسکا تھا مجھے
وہ جیسے خواب میں محسوس کررہا تھا مجھے
یہی تھا چاند اور اسکو گواہ ٹھہرا کر
ذرا سا یاد تو کر تو نے کیا کہا تھا مجھے
تمام رات مری خواب گاہ روشن تھی
کسی نے خواب میں اک پھول دے دیا تھا مجھے
وہ دن بھی آئے کہ خوشبو سے میری آنکھ کھلی
اور ایک رنگ حقیقت میں چھو رہا تھا مجھے
مین اپنی خاک پہ کیسے نہ لوٹ کر آتی
بہت قریب سے کوئی پکارتا تھا مجھے
درونِ خیمہ ہی میرا قیام رہنا تھا
تو میرِ فوج نے لشکر میں کیوں لیا تھا مجھے
پروین شاکرؔ

No comments:
Post a Comment