2016-03-23

Sula raha tha na bedar kar raha tha mujhe

سلا رہا تھا نہ بیدار کرسکا تھا  مجھے

سلا رہا تھا نہ بیدار کرسکا تھا مجھے
وہ جیسے خواب میں محسوس کررہا تھا مجھے
یہی تھا چاند اور اسکو گواہ ٹھہرا کر
ذرا سا یاد تو کر تو نے کیا کہا تھا مجھے
تمام رات مری خواب گاہ روشن تھی
کسی نے خواب میں اک پھول دے دیا تھا مجھے
وہ دن بھی آئے کہ خوشبو سے میری آنکھ کھلی
اور ایک رنگ حقیقت میں چھو رہا تھا مجھے
مین اپنی خاک پہ کیسے نہ لوٹ کر آتی
بہت قریب سے کوئی پکارتا تھا مجھے
درونِ خیمہ ہی میرا قیام رہنا تھا
تو میرِ فوج نے لشکر میں کیوں لیا تھا مجھے
                  پروین شاکرؔ

No comments:

Post a Comment