2016-02-10

Har dawa dard ko badha




ہر دوا درد کو بڑھا ہی دے

ہر دوا درد کو بڑھا ہی دے
اب تو اے دل اسے بھلا ہی دے
لُٹنے والے سے ہوں گریز نہ کر
کیا خبر وہ تجھے دُعا ہی دے
جس کے چہرے پہ میری آنکھیں ہیں
وہ مجھے طعنِ کم نگاہی دے
یہ بھی اک شیوۂ رفاقت ہے 
جانے والے کو راستا ہی دے
جانکنی کے عذاب سے نکلوں
آخری تیر بھی چلا   ہی دے
اب تو جیسے فرازؔ   بادِ   مراد
زندگی کا دیا   بجھا   ہی دے
            احمد فرازؔ


No comments:

Post a Comment