2016-02-29

Chehra mera tha nigahein us ki

چہرا میرا   تھا نگاہیں اس کی

چہرا  میرا  تھا  نگاہیں  اس  کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اس کی
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اس کی
شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز  ہوتی  ہوئی سانسیں  اس  کی
ایسے موسم بھی گزارے  ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں، شامیں اس کی
رنگ جوئندہ   وہ ،  آئے تو  سہی !
پھول تو پھول ہیں ، شاخیں اس کی
فیصلہ موجِ  ہوا  نے   لکھا !
آندھیاں میری، بہاریں  اُس کی
خود پہ بھی کھلتی نہ ہوں جس کی نظر
جانتا  کوں  زبانیں   اُس کی
نیند  اس سوچ  سے  ٹوٹی  اکثر
کس طرح کٹتی  ہیں راتیں اس کی
دور  رہ کر بھی  سدا  رہتی  ہیں
مجھ کو تھامے ہوئے بانہیں اس کی
             پروین شاکرؔ

Qarya e jan mein koi phool khilane aaye

قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے

قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے
وہ مرے دل  پہ نیا  زخم لگانے آئے
میرے ویران دریچوں میں بھی خوشبو جاگے
وہ مرے گھر کے در و بام سجا نے آئے
اس سے اک بار تو  روٹھوں میں اسی کی مانند
اور مری طرح سے وہ مجھ کو منانے آئے
اسی کوچے میں کئی اس کے شناسابھی تو ہیں
وہ کسی اور سے ملنے کے بہانے آئے
اب نہ پوچھوں گی میں کھوئے ہوئے خوابوں کا پتہ
وہ اگر آئے تو کچھ بھی نہ بتانے آئے
ضبط کی شہر پناہوں کی، مرے مالک ! خیر
غم کا سیلاب اور مجھ کو بہانے آئے
                پروین شاکرؔ

Khuli aankhon mein sapna jhankta hai

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے

کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن مور بن کر ناچتا ہے
مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا
کہ میرے گھر کا کچا راستہ ہے
          پروین شاکرؔ

Is tarah sath nibhna hai dushwaar sa

اس طرح ساتھ نبھنا ہے دشوار سا

اس طرح ساتھ نبھنا ہے دشوار سا
تو بھی تلوار سا ، میں بھی تلوار سا
اپنا رنگِ غزل، اس کے رخسار سا
دل چمکنے   لگا  ہے   رُخِ   یار سا
اب ہے ٹوٹا سا دل خود سے بیزار سا
اس حویلی میں لگتا ہے دربار سا
خوب صورت سی پیروں میں زنجیر ہو
گھر میں بیٹھا رہوں میں گرفتار سا
میں فرشتوں کی صحبت کے لائق نہیں
ہم سفر کوئی   ہوتا   گنہگار   سا
گڑیا ، گڈے کو بیچا ، خریدا گیا
گھر سجایا  گیا   رات  بازار   سا
شام تک کتنے ہاتھوں سے گزروں گا میں
چائے خانے میں اُردو کے اخبار سا
بات کیا ہے کہ مشہور لوگوں کے گھر
موت کا سوگ ہوتا ہے تیوہار سا
زینہ زینہ اُترتا    ہوا   آئینہ
اس  کا  لہجہ   انوکھا  کھنک  دار  سا
             بشیر ؔبدر


Is tarah dunya mili shikwa gila jata raha

اس طرح دنیا ملی شکوہ گلہ جاتا رہا

اس طرح دنیا ملی شکوہ گلہ جاتا رہا
میں سمجھتا تھا مرا تیرے سوا کوئی نہیں
خط نہیں ہوں جس پہ تم راہوں کی تفصیلیں لکھو
اس کے گھر جاؤں گا میں جس کا پتہ کوئی نہیں
ایسا لگتا ہے کہ تو مجھ سے جدا ہو جاتے گا
تیرے میرے درمیان اب فاصلہ کوئی نہیں
اب تمہیں سچی محبت کا یقیں آجائے گا
اس بڑے شہرِ وفا میں بے وفا کوئی نہیں
میں  پیمبر تو نہیں لیکن مجھے احساس ہے
ان بُرے لوگوں میں بھی مجھ سا بُرا کوئی نہیں
                       بشیرؔ بدر

2016-02-28

Honton pe mohabbat ke fasane nahin aate

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے

ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے
ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے
پلکیں بھی چمک اُٹھتی ہیں سونے میں ہماری
آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے
دل اُجڑے ہوئے ایک سرائے کی  طرح ہے
اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے
یارو نئے موسم نے یہ احسان کئے ہیں
اب یاد   مجھے   درد پُرانے نہیں آتے
اُڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
اس شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیں
یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے
احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں
آتے ہیں مگر دل کو دُکھانے نہیں آتے
                         بشیر ؔبدر

So khuloos baton mein sab karam khayalon mein

سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں

سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
بس ذرا وفا کم ہے تیرے شہر والوں میں
پہلی بار نظروں نے چاند بولتے دیکھا
ہم جواب کیا دیتے کھو گئے سوالوں میں
رات تیری یادوں نے دل کو اس طرح چھیڑا
جیسے کوئی چٹکی لے نرم نرم گالوں میں
یُوں کسی کی آنکھوں میں صبح تک ابھی تھے ہم
جس طرح رہے شبنم پُھول کے پیالوں میں
میری آنکھ کے تارے اب نہ دیکھ پاؤ گے
رات کے مسافر تھے کھو گئے اُجالوں میں
                          بشیر ؔ بدر

Teri yadon ka wo aalam nahin hai

تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے

تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے
مگر دل کی اُداسی کم نہیں ہے
ہمیں بھی یاد ہے مرگِ تمنّا
مگر اب فرصتِ ماتم نہیں ہے
ہوائے قربِ منزل کا بُرا ہو
فراقِ ہمسفر کا غم نہیں ہے
جنونِ پارسائی بھی تو ناصح
مری دیوانگی سے کم نہیں ہے
یہ کیا گلشن ہے جس گلشن میں لوگو
بہاروں کا کوئی موسم نہیں ہے
قیامت ہے کہ ہر مے  خوار پیاسا
مگر کوئی حریفِ جم نہیں ہے
صلیبوں پر کھنچے جاتے ہیں لیکن
کسی کے ہاتھ میں پرچم نہیں ہے
فرازؔ اس قحط زارِ روشنی میں
چراغوں کا دھواں بھی کم نہیں ہے
               احمد فرازؔ

Azurdagan e shehr ka jaisa bhi hal ho

آزردگانِ شہر کا جیسا بھی حال ہو

آزردگانِ شہر کا جیسا بھی حال ہو
اے یارِ خوش دیار تجھے کیوں ملال ہو
اب بات دوستی کی نہیں حوصلے کی ہے
لازم نہیں کہ تو بھی میرا ہم خیال ہو
اب کے وہ درد دے کہ میں روؤں تمام عمر
اب کے لگا وہ زخم کہ جینا محال ہو
پہلے وہ اضطراب تجھے کس طرح بھُلائیں
اب یہ عذاب کیسے طبیعت بحال ہو
خود میرا ہاتھ جب مری بربادیوں میں تھا
تیری جبیں پہ کیوں عرقِ انفعال ہو
پھر تو نے چھیڑ دی ہے گئی ساعتوں کی بات
وہ گفتگو نہ کر کہ تجھے  بھی ملال ہو
میری ضرورتوں سے زیادہ کرم نہ کر
ایسا سلوک کر کہ مرے حسبِ حال ہو
ٹوٹا تو ہوں مگر ابھی بکھرا نہیں فرؔاز
میرے بدن پہ جیسے شکستون کا جال ہو
                     احمد فرازؔ

2016-02-27

Hai bas ke har ek un ke ishare mian nishan aur

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور

ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشان اور
کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگۂ ناز کو پیوند
ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جاکر دل و جاں اور
ہر چند  سُبک دست ہوئے بُت شکنی میں
ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگِ  گراں اور
ہے خونِ جگر جوش میں، دل کھول کے روتا
ہوتے جو کئی دیدۂ خوننابہ فشاں اور
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اُڑ جائے
جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکا
ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور
لیتا ، نہ اگر دل تمہیں دیتا ، کوئی دم چین
کرتا ، جو نہ مرتا ، کوئی دن آہ و فغاں اور
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رُکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
ہیں اور بھی دنیا میں سُخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غاؔلب کا ہے اندازِ بیاں اور
              مرزا اسد اللہ خان غالؔب



Ye aarzu thi tujhe gul ke ro ba ro karte

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبلِ   بے تاب  گفتگو کرتے
پیام بر نہ میسّر ہوا تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
مری  طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتشؔ
برستی آگ ، جو باراں کی آرزو کرتے
             خواجہ حیدر علی آتشؔ

Soorat se us ki behtar soorat nahi he koi

صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی

صورت سے اس کی بہتے صورت نہیں ہے کوئی
دیدارِ یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی
میں نے کہا " کبھی تو تشریف لاؤ " بولے
" معذور رکھیے، وقتِ فرصت نہیں ہے کوئی"
ہم کیا کہیں کسی سے کیا ہے طریق اپنا
مذہب نہیں ہے کوئی، ملت نہیں ہے کوئی
ہم شاعروں کا حلقہ ، حلقہ ہے عارفوں کا
نا آشنا ئے معنی صورت نہیں ہے کوئی
ما و شما ، کہ و مہ کرتا ہے ذکر تیرا
اس داستاں سے خالی صحبت نہیں ہے کوئی
شہرِبُتاں ہے آتش اللہ کو کرو یاد
کس کو پکارتے ہو حضرت نہیں ہے کوئی
       خواجہ حیدر علی آتشؔ

Kuch nazar aaya na phir jab tu nazar aaya mujhe

کچھ نظر آیا نہ پھر جب تُو نطر آیا مجھے

کچھ نظر آیا نہ پھر جب تُو نظر آیا مجھے
جس طرف دیکھا مقامِ ہُو نظر آیا مجھ
دیدۂ یعقوب سے دیکھا جو عالم کی طرف
یوسف اُس بازار میں ہر سو نظر آیا مجھے
خالِ مشکیں کا ترے جس رات افسانہ بنا
سو گیا تو خواب  میں ہندو نظر آیا مجھے
تو نے دکھلائی صنم برقع کی جالی سے جو آنکھ
دام میں صیّاد  کے آہو نظر آیا مجھے
وصل کی شب کردیا بے کاررعبِ حسن نے
دست و پا ہر ایک بے قابو نظر آیا مجھے
یاد کر اُس گل کو آتؔش مثلِ شبنم رودیا
پیرہن کوئی اگر خوشبو نظر آیا مجھے
           خواجہ حیدر علی آتؔش

2016-02-26

Awalin chand ne ye bat sujhai mujh ko

اوّلیں چاند نےکیا بات  سجھائی مجھ کو

اوّلیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو
یاد آئی تری   انگشتِ حنائی   مجھ  کو
سرِ  ایوانِ طرب نغمہ سرا تھا  کوئی
رات بھر اس نے تری یاد دلائی مجھ کو
دیکھتے دیکھتے تارو ں کا سفر ختم ہوا
سو گیا چاند مگر نیند نہ آئی  مجھ  کو
اِنھی آنکھوں نے دکھائے کئی بھرپور جمال
اِنھی آنکھوں نے شبِ ہجر دکھائی مجھ کو
سائے کی طرح مرے ساتھ رہےرنج و الم
گردشِ وقت کہیں  راس نہ آئی مجھ کو
دھوپ اُدھر ڈھلتی تھی دل ڈوبتا جاتا تھا اِدھر
آج تک  یاد ہے  وہ شامِ  جدائی مجھ کو
شہرِ   لاہور تری رونقیں   دائم   آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو
                ناصؔر کاظمی



Parde main har awaz ke shamil to wahi hai

پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے

پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے
ہم لاکھ بدل جائیں مگر دل تو وہی ہے
موضوعِ سخن ہے وہی افسانۂ شیریں
محفل ہو کوئی رونقِ محفل تو وہی ہے
محسوس جو ہوتا ہے دکھائی نہیں دیتا
دل اور نظر میں حدِ فاضل تو وہی ہے
ہر چند ترے لطف سے محروم نہیں ہم
لیکن دلِ بیتاب کی مشکل تو وہی ہے
گرداب سے نکلے بھی تو جائیں گے کہاں ہم
ڈوبی تھی جہاں ناؤ یہ ساحل تو وہی ہے
لُٹ جاتے ہیں دن کو بھی جہاں قافلے والے
ہشیار مسافر کہ یہ منزل تو وہی ہے
وہ رنگ وہ آواز وہ سج اور وہ صورت
سچ کہتے ہو تم پیار کے قابل تو وہی ہے
صد شکر کہ اس حال میں جیتے تو ہیں ناؔصر
حاصل نہ سہی کاوشِ حاصل تو وہی ہے

                    ناؔصر کاظمی

Garifta dil hain bohat aaj tere deewane

 گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
مِٹی مِٹی سی اُمیدیں تھکے تھکے سے خیال
بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے
ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا
یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہل ِ دنیا نے
بقدرِ تُشنہ لبی پرسشِ وفا نہ ہوئی
چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے
خیال   آ گیا   مایوس  رہگزاروں   کا
پلٹ کے آگئے منزل سے تیرے دیوانے
کہاں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست
تمام رات سُلگتے ہیں دل کے ویرانے
اُمیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے  ناؔصر
جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے
          ناصؔر  کاظمی

Hasile ishaq tera husne pasheman hi sahi


حاصلِ عشق ترا حسنِ پشیماں ہی سہی

حاصلِ  عشق  ترا   حسنِ پشیماں  ہی  سہی
میری حسرت تری صورت سے نمایاں ہی سہی
حسن بھی حسن ہے محتاجِ نطر ہے جب تک
شعلۂ عشق چراغِ تہ دامان ہی سہی
کیا خبر خاک ہی سے کوئی کرن پُھوٹ پڑے
ذوقِ  آوارگئ دشت و بیاباں ہی سہی
پردۂ گل ہی سے شاید کوئی آواز آئے
فرصتِ سیرو تماشا ئے بہاران ہی سہی
                    ناصر ؔ کاظمی

Kya kar gaya ik jalwa e mastana kisi ka


کیا کرگیا اک جلوۂ مستانہ کسی کا

کیا کر گیا اک جلوۂ مستانہ کسی کا
رُکتا نہیں زنجیر سے دیوانہ کسی کا
کہتا ہے سرِ حشر یہ دیوانہ کسی کا
جنت سے الگ چاہئے ویرانہ کسی کا
آپس میں اُلجھتے ہیں عبث شیخ و برہمن
کعبہ نہ کسی کا ہے نہ بت خانہ کسی کا
جس کی نگہِ سادہ کے ہم مارے ہوئے ہیں
وہ شوخ یگانہ ہے نہ بیگانہ کسی کا
بیساختہ آج ان کے بھی آنسو نکل آئے
دیکھا نہ گیا حال فقیرانہ کسی کا
ہر دل میں غمِ عشق ہے اقرار در اقرار
ہر لب پہ ہے افسانہ در افسانہ کسی کا
ہوں عام نہ کر کیفِ غمِ عشق کو  اے دل!
کم بخت ! یہ میخانہ ہے میخانہ کسی کا
اُس کو بھی جگرؔ دیکھ لیا خاک میں ملتے
وہ اشک  جو تھا گوہر ِ یک دانہ کسی کا
             جگر ؔ مرادآبادی

Kam aakhir jazba e be ikhtiyar aahi gaya

    کام آخر جذبۂ بے اختیار آہی گیا

کام    آخر   جذبۂ   بے    اختیار آ    ہی   گیا
دل کچھ اس صورت سے تڑپا انکو پیار آہی گیا
جب نگاہیں اُٹھ گئیں اللہ رے معراجِ شوق
دیکھتا کیا ہوں وہ جانِ انتظار آ ہی گیا
ہائے  یہ حسنِ تصور کا فریبِ رنگ و بو
میں یہ سمجھا جیسے  وہ جانِ بہار آ  ہی گیا
ہاں سزا دے اے خدائے عشق، اے توفیقِ غم
پھر زبانِ بے ادب پر ذکرِ یار آ ہی  گیا
اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں
در حقیقت جیسے مجھ کو اعتبار آ ہی گیا
ہائے کافر دل کی یہ کافر جنوں انگیزیاں
تم کو پیار آئے نہ آئے مجھ کو پیار آ ہی گیا
درد نے کروٹ ہی بدلی تھی کہ دل کی آڑ سے
دفعتاً پردہ اُٹھا اور پردہ دار آ ہی  گیا
دل نے اک نالہ کیا آج اس طرح دیوانہ وار
بال بکھرائے کوئی مستانہ وار آ ہی گیا
جان ہی دیدی جگؔر نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری  کو قرار آ ہی گیا
                    جگرؔ مرادآبادی

2016-02-25

Khuloos e ishaq ka iqrar farma

خلوصِ عشق کا اقرار فرما

خلوصِ عشق کا اقرار فرما
ہمیں بھی سرفرازِ دار  فرما
ہمیں پینے کی عادت پڑگئی ہے
نگاہِ مست سے سرشار فرما
جوانی پر بھی لازم ہے عبادت
طوافِ کوچۂ   دلدار  فرما
مجھے ہر چیز حاصل ہوگئی ہے
تو پھر اک مرتبہ انکار فرما
مجھ جھک کر نہ مل محشر میں زاہد
مجھے اتنا   نہ  زیرِ بار  فرما
عدؔم واقف ہے تو موسم کی ضد سے
پیالہ تھام  ، اور اشعار فرما
       عبدالحمید عدمؔ

Mozoon hai intekhab e khirad jam khoob hain

موزوں ہے انتخابِ خرد ، جام خوب ہیں   

موزوں ہے انتخابِ خرد ، جام خوب ہیں
آغاز   دلفریب ہیں ، انجام    خوب ہیں
ممکن ہے اور شےبھی ہو ایسی حسیں کوئی
نادانئ    شباب   کے   ایام   خوب   ہیں
سادہ محبّتوں کی   یہ   بے لوث   تہمتیں
تسنیم میں دھلے   ہوئے   الزام خوب ہیں
کیوں رو رہا ہے پی کے پیالہ شراب کا
زاہد ثواب و خیر کے سب کام خوب ہیں
جی چاہتا ہےدل تری  زلفوں کو سونپ دوں
یہ الجھنیں عجیب ہیں یہ دام خوب ہیں
کیا نیک نامیوں کی خلش میں پڑیں عدؔم
رسوا بہت درست ہیں بدنام خوب ہیں
                عبدالحمید عؔدم